مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمعة
الجمعة يؤخرها الإمام حتى يذهب وقتها باب: اگر امام جمعه کو اتنا مؤخر کر دے کہ وقت جانے لگے تو کیا کیا جائے؟
٥٥٩٦ - حدثنا ابن علية عن سوار عن عبد الواحد بن (صبرة) (١) أن سالما حدث القاسم بن محمد قال: لما قدم علينا الأمير (جاءت الجمعة) (٢) فجمّع (بنا) (٣) فما زال يخطب ويقرأ الكتب حتى مضى وقت الجمعة ولم ينزل يصلي، فقال له القاسم: فما قمت فصليت قال: لا واللَّه خشيت أن يقال رجل من آل عمر قال: فما صليت قاعدا، قال: لا قال: فما أومأت، قال: [لا (قال) (٤): ثم ما زال يخطب ويقرأ حتى مضى وقت العصر (ولم ينزل يصلي) (٥) (فقال) (٦) له القاسم: فما قمت صليت، قال: لا قال: فما صليت قاعدا، قال: لا قال: فما أومأت قال: لا] (٧).حضرت عبد الواحد بن سبرہ کہتے ہیں کہ حضرت سالم نے ایک مرتبہ حضرت قاسم بن محمد کو بتایا کہ جب ہمارا امیر ہمارے پاس آیا اور اس نے ہمیں جمعہ پڑھایا تو وہ اتنی دیر تقریر کرتا رہا اور خطوط پڑھتا رہا کہ جمعہ کا وقت نکل گیا لیکن اس نے نیچے اتر کر نماز نہیں پڑھائی۔ یہ سن کر حضرت قاسم نے ان سے کہا کہ پھر آپ نے کھڑے ہوکر اپنی نماز نہیں پڑھی ؟ سالم نے کہا نہیں، خدا کی قسم ! مجھے یہ ڈر تھا کہ لوگ کہیں گے کہ عمر کی اولاد میں سے ایک آدمی نے یوں کیا ہے ؟ انہوں نے پوچھا کہ آپ نے بیٹھ کر نماز نہیں پڑھی ؟ سالم نے کہا نہیں۔ حضرت قاسم نے پوچھا کہ آپ نے اشارے سے بھی نماز نہیں پڑھی ؟ انہوں نے کہا نہیں۔ پھر حضرت سالم نے بتایا کہ وہ تقریر کرتا رہا اور خط پڑھتا رہا یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت بھی گذر گیا لیکن اس نے اتر کر نماز نہیں پڑھائی۔ حضرت قاسم نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے اٹھ کر نماز نہیں پڑھی ؟ انہوں نے کہا نہیں۔ قاسم نے پوچھا کہ آپ نے بیٹھ کر بھی نماز نہیں پڑھی ؟ انہوں نے کہا نہیں۔ قاسم نے پوچھا کہ کیا آپ نے اشارے سے بھی نماز نہیں پڑھی ؟ انہوں نے کہا نہیں۔