مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمعة
ما يقرأ (به) في صلاة الجمعة باب: جمعہ کی نماز میں کہاں سے تلاوت کی جائے؟
٥٥٦٤ - حدثنا حاتم بن إسماعيل عن جعفر عن أبيه عن عبيد اللَّه بن أبي رافع قال: استخلف مروان أبا هريرة على المدينة وخرج إلى مكة فصلى بنا أبو هريرة الجمعة. فقرأ بـ (سورة الجمعة) في السجدة الأولى وفي الآخرة: ﴿إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ﴾ فقال عبيد اللَّه: فأدركت أبا هريرة حين انصرف فقلت له: إنك قرأت بسورتين كان على يقرأ بهما (في الكوفة) (١) فقال أبو هريرة: إني سمعت رسول اللَّه ﷺ يقرأ بهما (٢).حضرت عبید اللہ بن ابی رافع فرماتے ہیں کہ مروان نے حضرت ابوہریرہ کو مدینہ میں اپنا نائب بنایا اور خود مکہ چلا گیا۔ حضرت ابوہریرہ نے ہمیں جمعہ کی نماز پڑھائی تو پہلی رکعت میں سورة الجمعہ اور دوسری رکعت میں سورة المنافقین کی تلاوت فرمائی۔ عبید اللہ کہتے ہیں کہ میں نماز پڑھنے کے بعد حضرت ابوہریرہ سے ملا اور میں نے ان سے کہا کہ آپ نے ان دو سورتوں کی تلاوت کی ہے جنہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کوفہ میں پڑھا کرتے تھے۔ حضرت ابوہریرہ نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی انہی سورتوں کی تلاوت کرتے سنا ہے۔