مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمعة
من كان يستحب إذا صلى الجمعة أن يتحول من مكانه باب: جو حضرات اس بات کو مستحب قرار دیتے ہیں کہ جمعہ کی نماز پڑھنے کے بعد جگہ بدل لی جائے
٥٥٣٨ - حدثنا غندر عن ابن جريج قال: أخبرني عمر بن عطاء بن أبي (الخوار) (١) أن نافع بن جبير أرسله إلى السائب ابن (٢) أخت (نمر) (٣) يسأله عن شيء رآه منه معاوية في الصلاة فقال: نعم صليت معه الجمعة في المقصورة فلما سلّم الإمام قمت في مقامي فصليت فلما دخل أرسل إليَّ وقال: لا تعد لما فعلت، إذا ⦗١٥٧⦘ صليت الجمعة فلا تصلها بصلاة حتى تكلم أو تخرج فإن رسول اللَّه ﷺ أمرنا بذلك أن لا توصل صلاة (بصلاة) (٤) حتى (نتكلم أو نخرج) (٥) (٦). [٥٧] من رخص في نصف النهار يوم الجمعة (٧)حضرت عمر بن عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت نافع بن جبیر نے مجھے حضرت سائب بن اخت نمر کے پاس بھیجا کہ میں ان سے اس چیز کے بارے میں سوال کروں جو انہوں نے حضرت معاویہ کی نماز میں دیکھی ہو۔ میں نے ان سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے ان کے ساتھ مسجد سے ملحقہ کمرے میں جمعہ کی نماز ادا کی۔ جب امام نے سلام پھیرا تو میں نے اپنی جگہ کھڑے کھڑے نماز ادا کی۔ جب وہ اندر آئے تو مجھے پیغام بھیج کر بلایا اور فرمایا کہ جو عمل تم نے آج کیا ہے وہ دوبارہ نہ کرنا۔ جب تم جمعہ کی نماز پڑھ لو تو اسی جگہ کوئی نماز اس وقت تک نہ پڑھو جب تک کلام نہ کرلو یا باہر نہ نکل جاؤ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس بات کا حکم دیا ہے کہ ہم کسی نماز کو دوسری نماز کے ساتھ بغیر کلام اور بغیر جگہ چھوڑے نہ ملائیں۔