مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمعة
من كان يحث على إتيان الجمعة ولا يرخص في تركها باب: جو حضرات جمعہ کی حاضری کی بھر پور ترغیب دیتے ہیں اور اس میں رخصت کے قائل نہیں
٥٥١٤ - حدثنا حسين بن علي عن الحسن بن (الحر) (١) عن ميمون بن (أبي) (٢) (شبيب) (٣) قال: أردت الجمعة في زمن الحجاج فتهيأت للذهاب ثم قلت: (أين) (٤) أذهب؟ أصلي خلف هذا قال: فقلت مرة أذهب ومرة لا أذهب قال: (فاجتمع) (٥) رأيي على الذهاب قال: فناداني مناد من جانب البيت ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ﴾ [الجمعة: ٩]، قال: وجلست مرة أكتب كتابا فعرض في شيء إن أنا كتبته في كتابي زين كتابي، وكنت قد كذبت وإن أنا تركه كان في كتابي بعض القبح، وكنت قد صدقت، فقلت مرة أكتبه وقلت مرة لا أكتبه قال: (فاجتمع) (٦) رأيي على تركه فتركته قال: فناداني مناد من جانب البيت: ﴿يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ﴾ [إبراهيم: ٢٧].حضرت میمون بن ابی شبیب کہتے ہیں کہ حجاج بن یوسف کے زمانے میں میں نے جمعہ کے لئے جانے کا ارادہ کیا اور تیاری بھی کرلی۔ پھر میرے دل میں خیال آیا کہ اس کے پیچھے کیا نماز پڑھوں ؟ پھر کبھی مجھے خیال آتا کہ چلا جاؤں اور کبھی خیال آتا کہ نہ جاؤں۔ چناچہ میری آخری رائے یہ ٹھہری کہ نماز کے لئے چلا جاتا ہوں۔ اتنے میں مجھے بیت اللہ کی جانب سے کسی پکارنے والے کی یہ آواز آئی : اے ایمان والو ! جب تم جمعہ کے دن نماز کی پکار سنو تو اللہ کے ذکر کی طرف تیزی سے چل پڑو اور خریدوفروخت کو چھوڑ دو ۔ اسی طرح ایک مرتبہ میں ایک خط لکھنے بیٹھا تو ایک بات ذہن میں آئی جو خلاف حقیقت تھی لیکن اس کے لکھنے سے میرا خط مزین ہوجاتا۔ چناچہ کبھی تو دل میں آتا کہ جھوٹ لکھ کر خط کو مزین کردوں اور کبھی دل میں آتا کہ اس کو چھوڑ دوں اور خط کو سچ پر مشتمل رکھوں۔ بہرحال میری رائے اس کو چھوڑ دینے پر ٹھہری۔ اس پر مجھے بیت اللہ کی جانب سے کسی پکارنے والے کی یہ پکار سنائی دی : اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو دنیا میں اور آخرت میں پختہ قول کے ذریعہ ثابت قدم رکھتا ہے۔