مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمعة
في الكلام إذا صعد الإمام المنبر وخطب باب: امام کے منبر پر چڑھ جانے اور خطبہ دینے کے دوران گفتگو کا حکم
حدیث نمبر: 5409
٥٤٠٩ - حدثنا علي بن مسهر عن داود بن أبي هند عن (بكر) (١) بن عبد اللَّه عن علقمة بن عبد اللَّه قال: قدمنا المدينة يوم الجمعة فأمرت أصحابي أن يرتحلوا ثم أتيت المسجد فجلست قريبا من ابن عمر فجاء رجل من أصحابي فجعل يحدثني والإمام يخطب فقلنا: كذا وكذا، (فلما) (٢) (أكثر) (٣) قلت له: اسكت فلما قضينا الصلاة ذكرت ذلك لابن عمر فقال: أما انت فلا جمعة لك وأما صاحبك فحمار (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ ہم جمعہ کے دن مدینہ آئے۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ کوچ کرجائیں اور میں مسجد میں آکر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے قریب بیٹھ گیا۔ اتنے میں میرے ساتھیوں میں سے ایک آدمی آیا اور دورانِ خطبہ مجھ سے بات کرنے لگا کہ ہم نے ایسے ایسے کیا۔ جب اس نے زیادہ بات کی تو میں نے اس سے کہا کہ خاموش ہوجاؤ۔ جب ہم نے نماز پوری کرلی تو میں نے اس بات کا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ذکر کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ تمہارا جمعہ نہیں ہوا اور تمہارا وہ ساتھی تو گدھا ہے۔
حواشی
(١) في [أ]: (داود).
(٢) في [أ]: سقط (فلما).
(٣) في [هـ]: (كثرت).