حدیث نمبر: 5395
٥٣٩٥ - حدثنا ابن علية عن ابن عون قال: لقيني حماد بن أبي سليمان والمؤذنون يؤذنون يوم الجمعة وقد خرج الإمام فكلمني فلم أكلمه ثم اجتمعنا في جمعة أخرى فكلمني والصحف تقرأ فجعل يكلمني ولا أكلمه فقال: يا ابن أخي إنما (١) كان السكوت قبل اليوم إذا وعظوا بكتاب اللَّه وقالوا فيه، فنسكت (٢) لصحفهم هذه؟ قال ابن (عون) (٣): فذكرته لإبراهيم فقال إبراهيم: إن الشيطان يأتي أحدهم (الهمَّ) (٤) أو نفسه، إنما كان السكوت قبل (إذا) (٥) وعظوا بكتاب اللَّه وقالوا فيه.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عون کہتے ہیں کہ جب مؤذن جمعہ کے لئے اذان دے رہے تھے اور امام نماز کے لئے نکل چکا تھا تو میری حضرت حماد بن ابی سلیمان سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے مجھ سے بات کی لیکن میں نے ان سے کوئی بات نہ کی۔ پھر اگلے جمعہ کو ہم دوبارہ ملے تو جب خطوط پڑھے جارہے تھے اس وقت انہوں نے مجھ سے بات کی، وہ مجھ سے بات کرتے رہے لیکن میں خاموش رہا۔ اس پر انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ اے میرے بھتیجے ! اس دن خاموشی اس وقت لازم ہوتی ہے جب ائمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں سے وعظ کریں۔ ہم ان خطوط کے لئے کیوں خاموش رہیں ؟ ! حضرت ابن عون کہتے ہیں کہ میں نے اس بات کا ذکر ابراہیم سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ شیطان تم میں سے کسی کے پاس آتا ہے اور اسے یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ جمعہ کے دن خاموشی صرف اسی وقت ہے جب ائمہ کتاب سے وعظ کررہے ہوں۔

حواشی
(١) في (ب) زيادة: (كا).
(٢) في [أ]: (فتسكت).
(٣) في [جـ]: (عونة).
(٤) في [أ، ب]: (اللهم).
(٥) في [أ] زيادة (على).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمعة / حدیث: 5395
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5395، ترقيم محمد عوامة 5332)