مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمعة
الخطبة يوم الجمعة يقرأ فيها أم لا باب: جمعہ کے خطبہ میں قرآن مجید کی تلاوت کی جا سکتی ہے یا نہیں؟
حدیث نمبر: 5311
٥٣١١ - حدثنا ابن علية عن عطاء بن السائب عن أبي عبد الرحمن قال: نزلنا المدائن فكنا منها على رأس (فرسخ) (١) فجاءت الجمعة (فحضر) (٢) أبي وحضرت معه فخطبنا حذيفة فقال: إن اللَّه ﵎ يقول: ﴿اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ﴾ [القمر: ١] (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ ہم مدائن سے ایک فرسخ کے فاصلے پر رہائش پذیر ہوئے۔ جمعہ کا دن آیا تو میں اور میرے والد جمعہ کے لئے حاضر ہوئے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اور اس میں ارشاد فرمایا ” اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا “
حواشی
(١) في [أ]: (فراسخ).
(٢) في [ط، هـ]: (وحضر).