مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمعة
من قال: الوضوء يجزئ من الغسل باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ غسل کے بجائے وضو بھی کافی ہے
حدیث نمبر: 5124
٥١٢٤ - حدثنا علي بن هاشم عن ابن أبي ليلى عن عطية عن أبي سعيد عن النبي ﷺ قال: "مَنْ تَطَهَّرَ (فأحسنَ) (١) الطهورَ، ثمَّ أَتَى الجمعةَ فلم يَلْهُ ولم يجهَلْ كان كفارةً لما بينَها ويين الجمعةِ (الأخرى) (٢)، والصَّلَواتُ الخمسُ كفاراتٌ لما بَيْنَهُنَّ، وفي الجمعةِ ساعةٌ لا يوافِقُهَا عَبْدٌ مسلمٌ (فَيسَأَلَ) (٣) اللَّه خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ" (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے اچھی طرح غسل کیا، پھر جمعہ کی نماز کے لئے آیا اور کوئی فضول اور جہالت والا کام نہ کیا تو یہ جمعہ پچھلے جمعہ تک کے تمام گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔ پانچوں نمازوں میں سے ہر نماز اپنے سے پہلی نماز تک کے لئے کفارہ ہے۔ جمعہ میں ایک گھڑی ایسی ہوتی ہے جس میں بندہ اللہ تعالیٰ سے جو بھی مانگتا ہے اسے عطا کیا جاتا ہے۔
حواشی
(١) في [أ، ب، هـ]: (وأحسن).
(٢) سقط: من [جـ، ك] (الأخرى).
(٣) في [أ، ب، د، ط، هـ]: (فسأل).