مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمعة
من قال: الوضوء يجزئ من الغسل باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ غسل کے بجائے وضو بھی کافی ہے
حدیث نمبر: 5122
٥١٢٢ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال: قال ⦗٧٧⦘ رسول اللَّه ﷺ: "مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوَضُوءَ ثُمَّ أَتَى الْجْمُعَةَ فَدَنَا وَأَنْصَتَ وَاسْتمَعَ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الجُمعَةِ الأُخْرَى وَزِيادَةُ ثَلَاثةِ أَيَّامٍ وَمَنْ مَسَّ الْحَصَى فَقَدْ لَغَى" (١).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا کہ جو شخص اچھی طرح وضو کرے، پھر جمعہ کے لئے آئے، امام کے قریب ہوکر خاموش رہے اور غور سے خطبہ سنے، اس کے اس جمعہ سے لے کر پچھلے جمعہ کے گناہ اور تین اضافی دنوں کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ جس شخص نے خطبہ کے دوران کنکریوں کو ہاتھ لگایا اس نے لغو کام کیا۔