حدیث نمبر: 4166
٤١٦٦ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا ابن عون قال: كنت مع ابن سيرين في جنازة، فلما انصرفنا حضرت الصلاة، قال: فلما أقيمت قيل لابن سيرين: تقدم (١)، فقال: ليتقدم بعضكم، ولا يتقدم إلا من قرأ القرآن، قال: ثم قال لي: تقدم. فتقدمت، فصليت بهم، فلما فرغت قلت في نفسي: ماذا صنعت شيئا كرهه ابن سيرين لنفسه تقدمت عليه؟ فقلت له: يرحمك اللَّه أمرتني بشيء كرهته لنفسك، فقال: إني كرهت أن يمر المار فيقول: هذا ابن سيرين يؤم الناس.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ میں ایک جنازے میں حضرت ابن سیرین کے ساتھ تھا۔ جب ہم جنازے سے فارغ ہوئے تو نماز کا وقت ہوگیا۔ جب نماز کی اقامت کہی گئی تو حضرت ابن سیرین سے کہا گیا کہ آگے ہوجائیں ! انہوں نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی آگے ہوجائے، اور آگے وہی ہو جس نے قرآن مجید پڑھا ہو۔ پس میں آگے ہوگیا اور میں نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب میں نماز پڑھا کر فارغ ہوا تو میں نے اپنے دل میں کہا میں نے یہ کیا کیا ؟ جس کا م کو ابن سیرین نے اپنے لئے ناپسند کیا میں وہ کر بیٹھا اور آگے بڑھ گیا ! چناچہ میں نے حضرت ابن سیرین سے کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے، آپ نے مجھے ایک ایسے کام کا حکم دیا ہے جسے اپنے لئے ناپسند فرمایا ؟ وہ کہنے لگے کہ میں اس بات کو ناپسند سمجھتا ہوں کہ کوئی گذرنے والا گذرے اور کہے یہ ابن سیرین ہیں جو نماز پڑھا رہے ہیں !

حواشی
(١) زيادة في [جـ، ك]: (قال).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 4166
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4166، ترقيم محمد عوامة 4144)