حدیث نمبر: 4165
٤١٦٥ - حدثنا هشيم قال أخبرنا (١) العوام قال: حدثنا عبد اللَّه بن أبي الهذيل قال: كان شيخ من (تلك) (٢) الشيوخ يؤم قومه، ثم ترك ذلك، قال: فلقيه بعض إخوانه، فقال (له) (٣): لم تركت إمامة قومك؟ قال: كرهت أن يمر المار فيراني أصلي فيقول: ما قدم هؤلاء هذا الرجل إلا وهو (خيرهم) (٤)، واللَّه لا أؤمهم أبدًا.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ بن ابی ہذیل فرماتے ہیں کہ ایک بوڑھے صاحب لوگوں کو نماز پڑھایا کرتے تھے پھر انہوں نے نماز پڑھانی چھوڑ دی۔ ان کے ایک دوست نے ان سے پوچھا کہ آپ نے نماز پڑھانی کیوں چھوڑ دی ؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے یہ بات ناپسند ہے کہ کوئی شخص مجھے نماز پڑھاتے ہوئے دیکھے اور کہے کہ اس آدمی کو اس لئے آگے کیا گیا ہے کہ یہ سب سے افضل ہے۔ خدا کی قسم ! میں آئندہ نماز نہیں پڑھاؤں گا۔

حواشی
(١) في [أ]: زيادة (عبد اللَّه).
(٢) سقط من: [ب].
(٣) في [أ، جـ، ك] زيادة (له).
(٤) في [أ، ب، هـ]: (أخيرهم).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 4165
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4165، ترقيم محمد عوامة 4143)