حدیث نمبر: 4157
٤١٥٧ - حدثنا أبو أسامة عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر قال: سمعت القاسم بن مخيمرة يذكر أن سلمان قدمه قوم يصلي بهم فأبى (حتى دفعوه) (١)، فلما صلى بهم قال: أكلكم راض؟ قالوا: نعم. قال: الحمد للَّه، إني سمعت رسول اللَّه ﷺ (يقول) (٢): "ثلاثة لا (تقبل) (٣) صلاتهم: المرأة تخرج من بيتها بغير إذنه، والعبد الآبق، والرجل يؤم القوم وهم له كارهون" (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت قاسم بن مخیمرہ فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان کو کچھ لوگوں نے نماز کے لئے آگے کیا ، انہوں نے نماز پڑھانے سے انکار کیا لیکن لوگوں کے اصرار پر انہیں نماز پڑھا دی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو حضرت سلمان نے پوچھا کہ کیا تم سب میرے نماز پڑھانے پر راضی ہو ؟ انہوں نے کہا ہم راضی ہیں۔ حضرت سلمان نے فرمایا تما م تعریفیں اللہ کے لئے ہیں، میں نے رسول اللہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تین آدمیوں کی نماز قبول نہیں ہوتی : ایک وہ عورت جو اپنے گھر سے خاوند کی اجازت کے بغیر باہرجائے، دوسر ا وہ غلام جو اپنے مالک سے بھاگا ہو اور تیسرا وہ شخص جو لوگوں کو نماز پڑھائے اور وہ اس سے راضی نہ ہوں۔

حواشی
(١) في [هـ]: (فدفعوه).
(٢) تكرار يقول في [جـ].
(٣) في [أ]: (يقبل).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 4157
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف جدًا منقطع، وهم أبو أسامة في قوله ابن جابر وإنما هو ابن تميم، وابن تميم ضعيف جدًا، والقاسم لا رواية له عن سلمان، أخرجه ابن أبي شيبة في المسند (٤٥٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4157، ترقيم محمد عوامة 4135)