مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
في الإمام يؤم القوم وهم له كارهون باب: اگر لوگ کسی کی امامت سے خوش نہ ہوں تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟
٤١٥٧ - حدثنا أبو أسامة عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر قال: سمعت القاسم بن مخيمرة يذكر أن سلمان قدمه قوم يصلي بهم فأبى (حتى دفعوه) (١)، فلما صلى بهم قال: أكلكم راض؟ قالوا: نعم. قال: الحمد للَّه، إني سمعت رسول اللَّه ﷺ (يقول) (٢): "ثلاثة لا (تقبل) (٣) صلاتهم: المرأة تخرج من بيتها بغير إذنه، والعبد الآبق، والرجل يؤم القوم وهم له كارهون" (٤).حضرت قاسم بن مخیمرہ فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان کو کچھ لوگوں نے نماز کے لئے آگے کیا ، انہوں نے نماز پڑھانے سے انکار کیا لیکن لوگوں کے اصرار پر انہیں نماز پڑھا دی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو حضرت سلمان نے پوچھا کہ کیا تم سب میرے نماز پڑھانے پر راضی ہو ؟ انہوں نے کہا ہم راضی ہیں۔ حضرت سلمان نے فرمایا تما م تعریفیں اللہ کے لئے ہیں، میں نے رسول اللہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تین آدمیوں کی نماز قبول نہیں ہوتی : ایک وہ عورت جو اپنے گھر سے خاوند کی اجازت کے بغیر باہرجائے، دوسر ا وہ غلام جو اپنے مالک سے بھاگا ہو اور تیسرا وہ شخص جو لوگوں کو نماز پڑھائے اور وہ اس سے راضی نہ ہوں۔