حدیث نمبر: 4123
٤١٢٣ - حدثنا محمد بن (عبيد) (١) عن (هارون) (٢) بن عنترة عن عبد الرحمن بن الأسود عن أبيه قال: أصبت أنا وعلقمة صحيفة فانطلقنا بها إلى عبد اللَّه، فجلسنا بالباب وقد زالت الشمس أو كادت تزول، فاستيقظ وأرسل الجارية فقال: انظري من بالباب، فرجعت إليه فقالت: علقمة والأسود، فقال: إئذني لهما، فدخلنا فقال: (كأنكما) (٣) (قد) (٤) أطلتما الجلوس بالباب؟، قالا: أجل. قال: فما (يمنعكما) (٥) أن تستأذنا؟ قالا: خشينا أن تكون نائما، قال: ما كنت أحب أن تظنوا (فيَّ) (٦) هذا، إن هذا ساعة كنا نشبهها بصلاة الليل (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت اسود فرماتے ہیں کہ مجھے اور حضرت علقمہ کو ایک صحیفہ ملا، ہم اسے لے کر حضرت عبد اللہ کے پاس آئے اور ان کے دروازے پر بیٹھ گئے۔ جب سورج زائل ہوگیا یا زائل ہونے کے قریب تھا تو وہ اٹھے اور اپنی باندی کو بھیجا کہ دیکھو دروازے پر کون ہے ؟ وہ واپس گئی اور اس نے بتایا کہ علقمہ اور اسود ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ انہیں میرے پاس آنے کی اجازت دے دو ۔ ہم حاضر ہوئے تو انہوں نے فرمایا کہ شاید تم کافی دیر سے دروازے پر بیٹھے ہو۔ ہم نے کہا جی ہاں۔ انہوں نے فرمایا تو تم نے اندر آنے کے لئے اجازت کیوں نہیں مانگی۔ ہم نے عرض کیا کہ ہمارا خیال تھا کہ کہیں آپ سو نہ رہے ہوں۔ انہوں نے فرمایا کہ تم میرے بارے میں یہ گمان نہ کرو ! یہ وہ گھڑی ہے جس وقت کی نماز کو ہم تہجد کی نماز سے تشبیہ دیتے تھے۔

حواشی
(١) في [هـ]: (عبيدة).
(٢) في [أ]: (مروان).
(٣) في [أ، ب]: (كأنما).
(٤) سقط من: [أ].
(٥) في [أ، جـ، ك]: (منعكما).
(٦) في [جـ، ك]: (بي).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 4123
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، هارون ثقة.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4123، ترقيم محمد عوامة 4101)