حدیث نمبر: 4119
٤١١٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) حميد عن أنس ⦗٣٩٣⦘ قال: أخَّر رسول اللَّه ﷺ ذات ليلة الصلاة إلى شطر الليل، (قال) (٢): فجعل الناس يصلون و (ينكفئون) (٣)، فخرج وقد بقيت عصابة، فصلى بهم، فلما سلم أقبل (عليهم) (٤) بوجهه فقال: "إن الناس قد صلوا ورقدوا وإنكم لم تزالوا في صلاة منذ انتظرتم الصلاة"، قال: فكأني أنظر إلى (وبيص) (٥) خاتمه في يده (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رات عشاء کی نماز کو آدھی رات تک مؤخر فرمایا۔ بعض لوگوں نے نماز پڑھ کر اپنے گھروں کو جانا شروع کردیا۔ جب نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو کچھ لوگ مسجد میں موجود تھے، آپ نے انہیں نماز پڑھائی اور جب آپ نے سلام پھیرا تو اپنا رخ مبارک ان کی طرف پھیر کر فرمایا ” لوگوں نے نماز پڑھ لی اور وہ سو گئے، تم جب سے نماز کا انتظار کررہے ہو نماز کی حالت میں ہو “ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ منظر اس وقت بھی اس طرح میرے سامنے ہے کہ میں آپ کی انگوٹھی مبارک کی چمک ابھی بھی دیکھ رہا ہوں۔

حواشی
(١) في [جـ، ك]: (أنا).
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) في [هـ]: (يكتفئون).
(٤) سقط من: [هـ].
(٥) في [أ، ب، ك]: (بيض).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 4119
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٥٧٢)، ومسلم (٦٤٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4119، ترقيم محمد عوامة 4097)