مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله
ما (ذكر) في الخوارج باب: خوارج کا بیان
٤٠٧٤٤ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا حماد بن زيد قال: حدثنا (مجالد) (١) بن سعيد عن عمير بن (٢) (زوذى) (٣) أبي (كثير) (٤) قال: خطبنا علي يومًا، فقام الخوارج فقطعوا عليه كلامه، قال: فنزل فدخل ودخلنا معه، فقال: ألا أني إنما أكلت يوم أكل الثور الأبيض، ثم قال: مثلي مثل (ثلاثة) (٥) أثوار (وأسد) (٦) اجتمعن في أجمة: أبيض وأحمر وأسود، فكان إذا أراد شيئا منهن اجتمعن فامتنعن منه. فقال للأحمر والأسود: إنه لا يفضحنا في أجمتنا هذه إلا مكان هذا ⦗٥٦٨⦘ الأبيض، فخليا (بيني وبينه) (٧) حتى آكله، ثم أخلو أنا وأنتما في هذه الأجمة، فلونكما على لوني ولوني على لونكما، قال: ففعلا، قال: فوثب عليه فلم (يُلبثه) (٨) أن قتله. قال: فكان إذا أراد أحدهما اجتمعا، فامتنعا منه، (فقال) (٩) للأحمر: يا أحمر، إنه لا يشهرنا في أجمتنا هذه إلا مكان هذا الأسود، فخل بيني وبينه حتى آكله، ثم أخلو أنا وأنت، فلوني على لونك ولونك على لوني، قال: فأمسك عنه فوثب عليه فلم يلبثه أن قتله، ثم لبث ما شاء اللَّه. ثم قال للأحمر: يا أحمر إني آكلك، قال: تأكلني، قال: نعم، قال: أما لا فدعني حتى أصوت ثلاثة أصوات، ثم شأنك بي قال: فقال: ألا إني إنما أكلت يوم أكل الثور الأبيض، قال: ثم قال علي: ألا وإني إنما (وهنت) (١٠) يوم قتل عثمان (١١).حضرت عمیر بن زوذی ابو کثیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک دن ہمیں خطبہ دیا، اس خطبہ میں خوارج کھڑے ہوئے اور ان کی بات کو کاٹ دیا۔ وہ نیچے اترے اور حجرے میں تشریف لے گئے، ہم بھی ان کے ساتھ اندر چلے گئے۔ انہوں نے فرمایا کہ میں اس دن کھایا گیا جس دن سفید بیل کھایا گیا۔ پھر فرمایا کہ میری مثال ان تین بیلوں اور شیر کی سی ہے جو ایک کچھار میں جمع ہوگئے، ایک بیل سفید تھا، ایک سرخ اور ایک کالا، جب بھی شیر ان بیلوں کو کھانے کی کوشش کرتا وہ تینوں جمع ہوجاتے اور شیر کا مقابلہ کرتے اور شیر کو باز رکھتے۔ ایک دن شیر نے سرخ اور کالے بیل سے کہا کہ سفید بیل کا رنگ اس کچھار میں ہماری ذلت کا سبب ہے، تم دونوں ایسا کرو کہ مجھے وہ بیل کھا لینے دو ، پھر ہم تینوں آرام سے اس کچھار میں رہیں گے، میرا اور تمہارا رنگ بھی ایک جیسا ہے۔ چناچہ وہ دونوں بیل اس کے جھانسے میں آگئے۔ اس بات کو منظور کرلیا اور شیر نے فورا حملہ کرکے سفید بیل کا کام تمام کردیا۔ (٢) پھر اس کے بعد جب کبھی وہ ان دونوں بیلوں میں سے کسی ایک کو مارنا چاہتا تو وہ دونوں جمع ہوجاتے اور اسے باز رکھتے۔ پس ایک دن شیر نے سرخ بیل سے کہا کہ اے سرخ بیل ! اس جگہ کالے کے ہونے کی وجہ سے ہماری عزت خراب ہورہی ہے۔ تم مجھے اجازت دو کہ میں اسے کھا لوں، پھر تم اور میں یہاں اکیلے رہیں گے، میرا رنگ تمہارے جیسا ہے اور تمہارا رنگ میرے جیسا ہے۔ پس سرخ بیل نے اسے اجازت دے دی اور اس نے کالے بیل کا قصہ تمام کردیا۔ (٣) پھر وہ کچھ دیر تک رکا رہا اور پھر سرخ بیل سے کہا کہ اے سرخ بیل ! میں تجھے کھاؤں گا۔ اس نے کہا کہ کیا تو مجھے کھائے گا ! اس نے کہا ہاں میں تجھے کھاؤں گا۔ بیل نے کہا کہ اگر تو نے مجھے کھانا ہی ہے تو مجھے تین آوازیں نکالنے کی اجازت دے دے۔ پھر تم جو چاہو کرلینا۔ پھر بیل نے کہا کہ میں تو اسی دن کھایا گیا تھا جس دن سفید بیل کھایا گیا تھا۔ (٤) پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یاد رکھو جس دن حضرت عثمان کو شہید کیا گیا میں اسی دن کمزور ہوگیا تھا۔