مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله
ما (ذكر) في الخوارج باب: خوارج کا بیان
٤٠٧٤٢ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا يزيد بن عبد العزيز عن عمر بن (حسيل) (١) بن سعد بن حذيفة قال: حدثنا (حبيب) (٢) أبو الحسن (العبسي) (٣) عن ⦗٥٦٦⦘ أبي البختري قال: دخل رجل المسجد فقال: لا حكم إلا للَّه، (ثم قال آخر: لا حكم إلا للَّه، قال: فقال علي: لا حكم إلا للَّه) (٤)، ﴿إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ وَلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِينَ لَا يُوقِنُونَ﴾ [الروم: ٦٠]، فما تدرون ما يقول هؤلاء؟ يقولون: لا إمارة، أيها الناس، إنه لا يصلحكم إلا أمير: بر أو فاجر، قالوا: هذا البر قد عرفناه، فما بال الفاجر؟ فقال: يعمل (المؤمن) (٥) (ويملى) (٦) للفاجر، ويبلغ اللَّه الأجل، (وتأمن) (٧) سبلكم، (وتقوم) (٨) أسواقكم، (ويقسم) (٩) فيئكم ويجاهد عدوكم ويؤخذ (الضعيف) (١٠) من القوي -أو قال: من الشديد- منكم (١١).حضرت ابو بختری فرماتے ہیں کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا اور اس نے کہا کہ اللہ کے سوا کسی کی حکومت نہیں۔ پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا کہ اللہ کے سوا کسی کی حکومت نہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر فرمایا کہ اللہ کے سوا کسی کی حکومت نہیں۔ بیشک اللہ کا وعدہ حق ہے اور وہ لوگ آپ کو حقیر نہ سمجھیں جو ایمان نہیں رکھتے۔ کیا تم جانتے ہو کہ یہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں ؟ یہ کہہ رہے ہیں کہ امارت نہیں ہے۔ اے لوگو ! تمہارے لئے امیر کا ہونا ضروری ہے، خواہ وہ نیک ہو یا فاسق۔ لوگوں نے کہا کہ نیک امیر کو تو ہم نے دیکھ لیا۔ فاسق کیسا ہوتا ہے ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مومن عمل کرتا ہے اور فاجر کو ڈھیل دی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ مدت تک پہنچاتا ہے، تمہارے راستے مامون ہیں، تمہارے بازار قائم ہیں، تمہارا مال غنیمت تقسیم کیا جاتا ہے، تمہارے دشمن سے جہاد کیا جاتا ہے۔ ضعیف کا حق قوی سے لے کر اسے دلایا جاتا ہے۔