حدیث نمبر: 40738
٤٠٧٣٨ - حدثنا عبيد اللَّه قال: (أخبرنا) (١) نعيم بن حكيم قال: حدثني أبو مريم أن (شَبَث) (٢) بن ربعي وابن الكواء خرجا من الكوفة إلى حروراء، فأمر علي الناس أن يخرجوا بسلاحهم فخرجوا إلى المسجد حتى امتلأ المسجد. ⦗٥٦٢⦘ فأرسل (إليهم) (٣) علي: بئس ما صنعتم (حين) (٤) (تدخلون) (٥) المسجد بسلاحكم، اذهبوا إلى جبانة مراد حتى يأتيكم أمري، (قال) (٦): قال أبو مريم: فانطلقنا إلى جبانة مراد، (فكنا بها) (٧) ساعة من نهار، ثم بلغنا أن القوم قد رجعوا (أو) (٨) أنهم (راجعون) (٩)، قال: (فقلت) (١٠): (١١) (أنطلق) (١٢) أنا فأنظر إليهم. قال: فانطلقت فجعلت أتخلل صفوفهم حتى انتهيت إلى (شبث) (١٣) بن ربعي وابن الكواء وهما واقفان متوركان على (دابتهما) (١٤)، (وعندهم) (١٥) رسل علي (يناشدونهم) (١٦) اللَّه لما رجعوا، وهم يقولون لهم: نعيذكم باللَّه أن (تعجلوا) (١٧) (الفتنة) (١٨) العام خشية عام قابل. ⦗٥٦٣⦘ فقام رجل منهم (إلى) (١٩) بعض رسل علي فعقر دابته، فنزل الرجل وهو يسترجع، فحمل سرجه فانطلق به، وهما يقولان: ما طلبنا إلا منابذتهم، (وهم) (٢٠) يناشدونهم اللَّه، فمكثوا ساعة ثم انصرفوا إلى الكوفة كأنه يوم أضحى أو يوم فطر. وكان علي يحدثنا قبل ذلك أن قوما يخرجون من الإسلام، (يمرقون) (٢١) منه كما (يمرق) (٢٢) السهم من الرمية، علامتهم رجل مخدج اليد، قال: فسمعت ذلك مرارا كثيرة، قال: وسمعه نافع (المخدج) (٢٣) أيضًا، حتى رأيته (يتكره) (٢٤) طعامه من كثرة ما سمعه منه. قال: وكان نافع معنا في المسجد يصلي فيه بالنهار، (ويبيت) (٢٥) فيه بالليل، وقد كسوته برنسا فلقيته من الغد فسألته: هل كان خرج معنا الناس الذين خرجوا إلى حروراء؟ قال: خرجت (أريدهم) (٢٦) حتي إذا بلغت إلي بني فلان لقيني صبيان، فنزعوا سلاحي، فرجعت. حتى إذا كان الحول أو نحوه خرج أهل النهروان وسار علي إليهم، فلم أخرج معه، قال: وخرج أخي أبو عبد اللَّه (و) (٢٧) مولاه مع علي. ⦗٥٦٤⦘ قال: فأخبرني أبو عبد اللَّه أن عليا سار إليهم حتى إذا كان حذاءهم على شاطيء النهروان أرسل إليهم يناشدهم اللَّه ويأمرهم أن يرجعوا، فلم تزل رسله تختلف إليهم حتى قتلوا رسوله، فلما رأى ذلك نهض إليهم فقاتلهم حتى فرغ منهم كلهم، ثم أمر أصحابه أن يلتمسوا المخدج، فالتمسوه، فقال بعضهم: ما نجده حيًا، وقال بعضهم: ما هو فيهم؛ ثم إنه جاءه رجل فبشره فقال: يا أمير المؤمنين قد (واللَّه وجدناه) (٢٨) تحت قتيلين في ساقية، فقال: اقطعوا يده المخدجة وأتوني بها، فلما أتي بها أخذها بيده ثم رفعها ثم قال: واللَّه ما كذبت ولا كذبت (٢٩).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو مریم فرماتے ہیں کہ شبث بن ربعی اور ابن کو اء کوفہ سے حروراء کی طرف گئے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اپنے ہتھیار کے ساتھ نکلیں۔ لوگ مسجد میں آگئے یہاں تک کہ مسجد لوگوں سے بھر گئی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم نے ہتھیاروں کے ساتھ مسجد مں داخل ہوکربہت برا کیا۔ تم سب میدان میں جمع ہوجاؤ اور اس وقت تک وہاں رہو جب تک میرا حکم تمہیں نہ مل جائے۔ ابو مریم فرماتے ہیں کہ پھر ہم میدان میں چلے گئے اور دن کا کچھ حصہ وہاں ٹھہرے پھر ہمیں خبر ہوئی کہ لوگ واپس جارہے ہیں۔ (٢) ابو مریم کہتے ہیں کہ میں ان کو دیکھنے کے لئے ان کی طرف چلا۔ میں ان کی صفوں کو چیرتا ہوا شبث بن ربعی اور ابن کو اء تک پہنچ گیا، وہ دونوں سواری سے ٹیک لگائے کھڑے تھے۔ ان کے پاس حضر ت علی رضی اللہ عنہ کے قاصد تھے جو انہیں اللہ کا واسطہ دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ تمہارا اگلے سال کے آنے سے پہلے فتنہ مچانے میں جلدی کرنا ایسا عمل ہے جس سے اللہ تعالیٰ تمہیں پناہ عطا فرمائے۔ خوارج کا ایک آدمی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ایک قاصد کے پاس گیا اور اس کی سواری کو مار ڈالا۔ وہ آدمی انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھتا ہوا نیچے اترا اور اپنی زین کو لے کر چل پڑا۔ وہ دونوں کہہ رہے تھے کہ ہم تو ان سے صرف مقابلہ چاہتے ہیں اور وہ اللہ کے واسطے دے رہے ہیں۔ (٣) وہ سب کچھ دیر ٹھہرے اور پھر کوفہ چلے گئے، وہ یوم اضحی یایوم فطر تھا، حضرت علی رضی اللہ عنہ اس سے پہلے ہم سے بیان کررہے تھے کہ ایک قوم اسلام سے خارج ہوجائے گی، وہ اسلام سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔ ان کی علامت یہ ہے ان میں مفلوج ہاتھ والا ایک آدمی ہوگا۔ راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ بات کئی مرتبہ سنی ہے۔ اس بات کو مفلوج ہاتھ والے نافع نے بھی سنا۔ یہاں تک کہ میں نے اسے دیکھا کہ اس نے اس بات کو زیادہ سن کر اس کی ناگواری کی وجہ سے کھاناکھانا بھی چھوڑ دیا تھا۔ نافع ہمارے ساتھ مسجد میں تھا دن کو نماز پڑھتا تھا اور رات مسجد میں گزارتا تھا۔ میں نے اسے ایک ٹوپی پہنائی تھی۔ میں اگلے دن اسے ملا، میں نے اس سے سوال کیا کہ کیا وہ ان لوگوں کے ساتھ نکلا تھا جو حروراء کی طرف گئے تھے ؟ انہوں نے کہا کہ میں ان کا ارادہ کرکے نکلا تھا لیکن جب میں فلاں قبیلے مں ھ پہنچا تو مجھے کچھ بچے ملے جنہوں نے میرا اسلحہ چھین لیا۔ میں واپس آگیا، ایک سال بعد اہل نہروان نکلے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی ان کی طرف گئے لیکن میں ان کے ساتھ نہیں گیا۔ (٤) میرے بھائی ابو عبد اللہ اور ان کے غلام حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے۔ مجھے ابو عبد اللہ نے بتایا کہ حضر ت علی رضی اللہ عنہ خوارج کی طرف گئے، جب نہروان کے کنارے ان کے برابر ہوگئے تو ان کی طرف آدمی بھیجا جو انہیں اللہ کا واسطہ دے اور انہیں رجوع کی دعوت دے۔ مختلف قاصدوں کا آنا جانا لگا رہا، یہاں تک کہ خارجیوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قاصد کو قتل کردیا۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس صورت حال کو دیکھا تو ان سے قتال کیا۔ جب سب کو تہس نہس کرکے فارغ ہوگئے تو اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ مفلوج ہاتھ والے شخص کو تلاش کریں۔ لوگوں نے انہیں تلاش کیا تو ایک آدمی نے کہا کہ ہمیں وہ زندہ حالت میں تو نہیں ملا۔ ایک آدمی نے کہا کہ وہ ان میں نہیں ہے۔ پھر ایک آدمی نے آکر خوشخبری دی کہ اے امیر المومنین ! خدا کی قسم ہم نے اسے دو مقتولوں کے نیچے گرا ہوا پالیا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ اس کا مفلوج ہاتھ کاٹ کر میرے پاس لاؤ۔ جب وہ ہاتھ لایا گیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسے بلند کرکے کہا کہ خدا کی قسم ! نہ تو میں نے جھوٹ بولا اور نہ مجھ سے جھوٹ بولا گیا۔

حواشی
(١) في [أ، ب، ع]: (أنبأنا).
(٢) في [أ، ب]: (شبت)، وفي [ع]: (شبثت).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [أ، ب]: (حتى).
(٥) في [أ، ب]: (يدخلون).
(٦) سقط من: [ع].
(٧) في [ع]: (وكنا بها).
(٨) في [هـ]: (و).
(٩) في [هـ]: (زاحفون).
(١٠) في [ع]: (قلت).
(١١) في [أ، ب]: زيادة (أنا).
(١٢) في [ع]: (فأنطلق).
(١٣) في [أ، ب]: (سبيب).
(١٤) في [هـ]: (دابتيهما).
(١٥) في [أ، ب، جـ، ع]: (وعندهما).
(١٦) في [هـ]: (يناشدونهما).
(١٧) في [أ، ب]: (يعجلوا).
(١٨) في [هـ]: (بفتنة).
(١٩) في [أ، ب]: (أتا).
(٢٠) في [أ، ب]: (وهما).
(٢١) في [ع]: (يمزقون).
(٢٢) في [ع]: (يمزق).
(٢٣) في [هـ]: (المخدع).
(٢٤) في [أ، ب]: (يتكو).
(٢٥) في [أ، ب]: (ويثبت)، وفي [ع]: (ونبيت).
(٢٦) سقط من: [أ، ب].
(٢٧) في [ع]: (مع).
(٢٨) في [ع]: (وجدناه واللَّه).
(٢٩) مجهول؛ لجهالة أبي مريم، والنسائي إنما وثق الحنفي لا الثقفي، أخرجه أبو داود (٤٧٧٠)، وعبد اللَّه بن أحمد في زوائد المسند (١٣٠٣)، وأبو يعلى (٣٥٨)، والطيالسي (١٦٥)، وابن جرير في التاريخ ٣/ ١٢٤، وابن بشكوال ٢/ ٥٤٦، والخطيب في الأسماء المبهمة ٤/ ٣١٣.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله / حدیث: 40738
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40738، ترقيم محمد عوامة 39082)