مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله
ما (ذكر) في الخوارج باب: خوارج کا بیان
٤٠٧٣٦ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة عن مصعب بن سعد قال: سألت أبي عن هذه الآية: ﴿قُلْ هَلْ (نُنَبِّئُكُمْ) (١) بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالًا (١٠٣) الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي ⦗٥٦١⦘ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾ [الكهف: ١٠٣ - ١٠٤] (أهم) (٢) الحرورية؟ قال: لا، هم أهل الكتاب اليهود والنصارى، أما اليهود (فكذبوا) (٣) (بمحمد) (٤) ﷺ (٥)، وأما النصارى فكفروا بالجنة (وقالوا) (٦): ليس فيها طعام ولا شراب، ولكن الحوورية ﴿الَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ أُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ﴾ [البقرة: ٢٧]، وكان سعد يسميهم الفاسقين (٧).حضرت مصعب بن سعد فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سوال کیا کہ قرآن مجید کی یہ آیت کیا خوارج کے بارے میں نازل ہوئی ہے : { قُلْ ہَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالأَخْسَرِینَ أَعْمَالاً الَّذِینَ ضَلَّ سَعْیُہُمْ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا } انہوں نے فرمایا کہ نہیں یہ آیت اہل کتاب یہود اور نصاریٰ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ یہود نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب کی اور نصاریٰ نے جنت کا انکار کیا۔ اور کہا کہ اس میں کھانا اور پینا نہیں ہے۔ حروریہ کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے : { الَّذِینَ یَنْقُضُونَ عَہْدَ اللہِ مِنْ بَعْدِ مِیثَاقِہِ وَیَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّہُ بِہِ أَنْ یُوصَلَ وَیُفْسِدُونَ فِی الأَرْضِ أُولَئِکَ ہُمُ الْخَاسِرُونَ } حضرت سعد خوارج کو فاسق کہا کرتے تھے۔