مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله
ما (ذكر) في الخوارج باب: خوارج کا بیان
٤٠٧٣٤ - حدثنا ابن علية عن التيمي عن أبي مجلز قال: بينما عبد اللَّه بن خباب (في يد) (١) الخوارج إذ أتوا على نخل، فتناول رجل منهم تمرة فأقبل عليه ⦗٥٦٠⦘ أصحابه فقالوا له: أخذت تمرة من تمر أهل العهد، وأتوا على خنزير (فنفحه) (٢) (رجل) (٣) منهم بالسيف، فأقبل عليه أصحابه فقالوا له: قتلت خنزيرا من خنازير أهل العهد، قال: فقال عبد اللَّه: ألا أخبركم (من) (٤) هو أعظم عليكم حقا من هذا؟ قالوا: من؟ قال: أنا، ما تركت صلاة ولا تركت كذا و (لا) (٥) تركت كذا، قال: فقتلوه، قال: فلما جاءهم عليٌّ قال: أقيدونا بعبد اللَّه بن خباب، قالوا: كيف نقيدك (به) (٦) وكلنا قد شرك في دمه؟ فاستحل قتالهم (٧).حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ جب حضرت عبد اللہ بن خباب خوارج کے قبضے میں تھے۔ اس وقت ان کا ایک آدمی کھجور کے ایک درخت کے پاس سے گزرا اور ایک کھجور اٹھا لی۔ اس کے ساتھیوں نے اس سے کہا کہ تو نے ایک ذمی کی کھجور اٹھا لی ہے ! پھر وہ ایک خنزیر کے پاس سے گزرے، ایک آدمی نے اسے تلوار ماری تو اس کے ساتھیوں نے کہا کہ تو نے ایک ذمی کے خنزیر کو مار ڈالا ! اس پر حضرت عبد اللہ بن خباب نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں ان دونوں سے زیادہ حرمت والے کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ انہوں نے کہا کہ وہ کون ہے ؟ حضرت عبد اللہ بن خباب نے فرمایا کہ وہ میں ہوں۔ میں نے نماز نہیں چھوڑی، میں فلاں عمل نہیں چھوڑا اور فلاں عمل بھی نہیں چھوڑا۔ اس کے باوجود بھی انہوں نے حضرت عبداللہ بن خباب کو شہید کردیا۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہان کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ حضرت عبد اللہ کے قاتل ہمارے حوالے کردو، تو انہوں نے کہا کہ ہم ان کے قاتل آپ کے حوالے کیسے کردیں حالانکہ ہم سب ان کے خون میں شریک ہیں۔ اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے قتال کو حلال قرار دے دیا۔