مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله
ما (ذكر) في الخوارج باب: خوارج کا بیان
٤٠٧٢٧ - حدثنا يونس بن محمد قال: حدثنا حماد بن سلمة عن الأزرق بن قيس عن شريك بن شهاب الحارثي قال: جعلت أتمنى أن ألقى رجلا من أصحاب محمد ﷺ (١) يحدثني عن الخوارج، فلقيت أبا برزة الأسلمي في نفر من أصحابه في يوم عرفة، فقلت: حدثني بشيء سمعته من رسول اللَّه ﷺ يقوله في الخوارج، (فقال) (٢): (أحدثك) (٣) بما سمعت أذناي ورأت عيناي، أُتي رسول اللَّه ﷺ بدنانير فجعل يقسمها وعنده رجل أسود (مطموم) (٤) الشعر، عليه ثوبان أبيضان، بين عينيه أثر السجود، وكان يتعرض لرسول اللَّه ﷺ (٥) فلم يعطه، فأتاه فعرض له من قبل وجهه فلم يعطه شيئا، فأتاه من قبل (يمينه) (٦) فلم يعطه شيئا، ثم أتاه من قبل ⦗٥٥٧⦘ شماله فلم (يعطه) (٧) شيئًا، ثم أتاه من خلفه فلم يعطه شيئا، فقال: يا محمد ما عدلت منذ اليوم في القسمة، فغضب رسول اللَّه ﷺ غضبا شديدا ثم قال: "واللَّه لا تجدون أحدا أعدل عليكم مني" -ثلاث مرات، ثم قال: "يخرج عليكم رجال من قبل المشرق كان هذا منهم، هديهم هكذا، يقرؤون القرآن لا يجاوز تراقيهم، (يمرقون) (٨) من الدين كما (يمرق) (٩) السهم من الرمية، ثم لا يعودون إليه -ووضع يده على صدره- سيماهم (التحليق) (١٠) لا يزالون يخرجون حتى يخرج آخرهم مع المسيح الدجال، فإذا رأيتموهم فاقتلوهم -ثلاثًا- (١١) شر الخلق والخليقة" -يقولها ثلاثًا (١٢).حضرت شریک بن شہاب حارثی کہتے ہیں کہ میری خواہش تھی کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کسی ایسے ساتھی سے ملوں جو مجھے خوارج کے بارے میں بتائے، میں یوم عرفہ کو حضرت ابو برزہ اسلمی سے ملا وہ اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ مجھے کوئی ایسی بات سنائیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خوارج کے بارے میں سنی ہو۔ انہوں نے فرمایا کہ میں تمہیں ان کے بارے میں ایسا واقعہ سناؤں گا جسے میرے کانوں نے سنا اور میری آنکھوں نے دیکھا ہے۔ ہوا یوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کچھ دنانیر لائے گئے۔ آپ انہیں تقسیم کرنے لگے، آپ کے پاس ایک آدمی تھا جس کے بال ڈھکے ہوئے تھے، اس پر دو سفید کپڑے تھے، اس کی آنکھوں کے درمیان سجدوں کا نشان تھا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوکر آپ سے وہ دنانیر لینا چاہتا تھا، لیکن آپ نے اسے عطا نہ فرمائے۔ وہ آپ کے چہرہ مبارک کی طرف سے آیا لیکن آپ نے اسے کچھ نہ دیا، وہ دائیں طرف سے آیا، آپ نے اسے کچھ نہ دیا، پھر وہ بائیں طرف سے آیا آپ نے اسے پھر بھی کچھ نہ دیا، پھر وہ پیچھے سے آیا تو آپ نے اسے پھر بھی کچھ نہ دیا۔ پھر وہ کہنے لگا اے محمد ! آج کے دن آپ نے تقسیم میں انصاف سے کام نہیں لیا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہت زیادہ غصہ میں آئے اور آپ نے تین مرتبہ فرمایا ” خدا کی قسم ! تم اپنے بارے میں مجھ سے زیادہ کسی کو انصاف کرنے والا نہیں پاؤ گے “ پھر آپ نے فرمایا کہ تم پر مشرق کی طرف سے کچھ لوگ خروج کریں گے، یہ مجھے ان میں سے لگتا ہے، ان کا طریقہ کاریہ ہوگا کہ وہ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے، پھر وہ اس میں واپس نہیں آئیں گے۔ پھر آپ نے اپنا ہاتھ سینے پر رکھا اور فرمایا کہ سر منڈانا ان کا شعار ہوگا، ان کا خروج ہمیشہ ہوتا رہے گا یہاں تک کہ ان کا آخری شخص مسیح دجال کے ساتھ نکلے گا۔ پھر آپ نے تین مرتبہ فرمایا کہ جب تم انہیں دیکھو تو ان سے قتال کرو۔ پھر آپ نے تین مرتبہ فرمایا کہ وہ تخلیق اور عادت کے اعتبار سے بدترین لوگ ہیں۔