مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله
ما (ذكر) في الخوارج باب: خوارج کا بیان
٤٠٧٢٥ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن زيد بن وهب عن علي قال: لما كان يوم النهروان لقي الخوارج، فلم يبرحوا حتى شجروا بالرماح فقتلوا جميعا، فقال علي: اطلبوا ذا الثدية، فطلبوه فلم يجدوه فقال علي: ما كذبت ولا كذبت، اطلبوه، فطلبوه فوجدوه في (وهدة) (١) من الأرض عليه ناس من القتلى، فإذا رجل على يده مثل سبلات السنور (٢)، قال: (فكبر) (٣) علي والناس، وأعجب الناس وأُعجب عليٌّ (٤).حضرت زید بن وہب فرماتے ہیں کہ یوم نہروان میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خوارج سے مڈبھیڑ ہوئی۔ نیزے مسلسل چلتے رہے اور خوارج مارے گئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ان میں ذوالثدیہ کو تلاش کرو، لیکن تلاش کے بعد بھی وہ نہ ملا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نہ میں نے جھوٹ بولا اور نہ میرے ساتھ جھوٹ بولا گیا۔ اسے تلاش کرو۔ جب پھر تلاش کیا گیا تو وہ مقتولین کے ساتھ ایک جگہ زمین پر پڑا تھا۔ اس کے ہاتھ پر بلی کے پنجوں جیسی کوئی چیز تھی۔ اسے دیکھ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ اور لوگوں نے اللہ اکبر کہا اور لوگ بھی خوش ہوئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی خوش ہوئے۔