حدیث نمبر: 40724
٤٠٧٢٤ - حدثنا ابن نمير قال: حدثنا عبد العزيز بن (سياه) (١) قال: حدثنا حبيب ابن أبي ثابت عن أبي وائل قال: أتيته فسألته عن هؤلاء القوم الذين قتلهم علي، قال: قلت: (فيم) (٢) فارقوه؟ و (فيم) (٣) (استحلوه؟) (٤) و (فيم) (٥) دعاهم؟ (وفيم) (٦) فارقوه؟ ثم (استحل) (٧) دماءهم؟ ⦗٥٥٢⦘ قال: إنه لما (استحر) (٨) القتل في أهل الشام بصفين اعتصم معاوية وأصحابه (بجبل) (٩)، فقال عمرو بن (العاص) (١٠): أرسل إلى علي بالمصحف، فلا واللَّه لا يرده عليك، قال: فجاء به رجل يحمله (ينادي) (١١): بيننا وبينكم كتاب اللَّه: ﴿أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَابِ يُدْعَوْنَ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ يَتَوَلَّى فَرِيقٌ مِنْهُمْ وَهُمْ مُعْرِضُونَ﴾ [آل عمران: ٢٣]، قال: فقال علي: نعم، بيننا وبينكم كتاب اللَّه، أنا أولى به منكم. قال: فجاءت الخوارج وكنا ((نسميهم) (١٢) يومئذ) (١٣) القراء، قال: فجاءوا (بأسيافهم) (١٤) على (١٥) عواتقهم، فقالوا: يا أمير المؤمنين (لا) (١٦) نمشي إلى هؤلاء القوم حتى يحكم اللَّه بيننا وبينهم. فقام سهل بن حُنيف فقال: أيها الناس اتهموا أنفسكم، (لقد) (١٧) كنا مع رسول اللَّه ﷺ يوم الحديبية ولو نرى قتالا لقاتلنا، وذلك في الصلح الذي كان بين رسول اللَّه ﷺ (١٨) [(وبين المشركين فجاء عمر فأتى رسول اللَّه ﷺ فقال: يا رسول اللَّه ألسنا على) (١٩) حق وهم على باطل؟ قال: "بلى"، قال: أليس قتلانا في الجنة ⦗٥٥٣⦘ وقتلاهم في النار؟ قال: "بلى"، قال: ففيم نعطي (الدنية) (٢٠) في ديننا ونرجع ولما يحكم اللَّه بيننا وبينهم؟ فقال: " (يا) (٢١) ابن الخطاب إني رسول اللَّه ولن يضيعني اللَّه أبدا". [قال: فانطلق عمر ولم يصبر متغيظا حتى أتى أبا بكر فقال: يا أبا بكر ألسنا على حق وهم على باطل؟ فقال: بلى، قال: (أليس) (٢٢) قتلانا في الجنة وقتلاهم في النار؟ قال: بلى، قال: فعلام نعطي الدنية في ديننا ونرجع ولما يحكم اللَّه بيننا وبينهم؟ فقال: يا ابن الخطاب! إنه رسول اللَّه ولن يضيعه اللَّه أبدا] (٢٣)، قال: فنزل القرآن على محمد ﷺ (٢٤) بالفتح، فأرسل إلى عمر فأقرأه إياه، فقال: يا رسول اللَّه أو فتح هو؟ قال: نعم، فطابت نفسه ورجع. فقال علي: أيها الناس! أن هذا فتح، فقبل عليٌّ القضية ورجع ورجع الناس. ثم أنهم خرجوا بحروراء أولئك العصابة من الخوارج بضعة عشر ألفًا، فأرسل إليهم يناشدهم اللَّه، فأبوا عليه فأتاهم صعصعة بن صوحان فناشدهم اللَّه وقال: علام تقاتلون خليفتكم؟ قالوا: نخاف الفتنة، قال: فلا تعجلوا ضلالة العام مخافة فتنة (عام) (٢٥) قابل، (٢٦) فرجعوا (فقالوا) (٢٧): نسير على ناحيتنا، فإن (عليا) (٢٨) قبل ⦗٥٥٤⦘ القضية (٢٩) قاتلناهم يوم صفين، وإن نقضها قاتلنا معه. فساروا حتى بلغوا النهروان، فافترقت منهم فرقة فجعلوا يهدون الناس قتلًا، فقال أصحابهم: ويلكم (ما على هذا) (٣٠) فارقنا (عليا) (٣١). فبلغ (عليًّا) (٣٢) أمرهم فقام فخطب الناس فقال: (أما) (٣٣) ترون، أتسيرون إلى أهل الشام أم ترجعون إلى هؤلاء الذين خلفوا إلى ذراريكم، فقالوا: لا، بل نرجع إليهم، فذكر أمرهم فحدث عنهم (ما) (٣٤) قال فيهم رسول اللَّه ﷺ: "إن فرقة تخرج عند اختلاف (٣٥) الناس تقتلهم أقرب الطائفتين بالحق، علامتهم رجل فيهم يده كثدي المرأة". فساروا حتى التقوا بالنهروان فاقتتلوا قتالا شديدا، فجعلت خيل علي لا (تقوم) (٣٦) لهم؛ فقام علي فقال: أيها الناس! إن كنتم إنما تقاتلون لي، فواللَّه ما عندي ما أجزيكم به، وإن كنتم إنما تقاتلون للَّه فلا يكن هذا قتالكم، فحمل الناس حملة واحدة، فانجلت الخيل عنهم وهم مكبون على وجوههم. فقال علي: اطلبوا الرجل فيهم، قال: فطلب الناس فلم يجدوه حتى قال بعضهم: غرنا ابن أبي طالب من إخواننا حتى (قتلناهم) (٣٧)، فدمعت عين علي، ⦗٥٥٥⦘ قال: فدعا بدابته فركبها فانطلق حتى أتى وهدة فيها قتلى بعضهم على بعض فجعل يجر بأرجلهم حتى وجد الرجل تحتهم، (فاجتروه) (٣٨) فقال علي: اللَّه أكبر، وفرح الناس ورجعوا. وقال علي: لا أغزو العام، ورجع إلى الكوفة وقتل، واستخلف (حسن) (٣٩) (فسار) (٤٠) بسيرة أبيه، ثم (بعث) (٤١) بالبيعة إلى معاوية (٤٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حبیب بن ابی ثابت فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابو وائل کے پاس آیا اور میں نے ان سے اس قوم کے بارے میں سوال کیا جن سے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قتال کیا تھا۔ میں نے کہا کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کیوں چھوڑا ؟ ان کے خون کو حلال کیوں سمجھا ؟ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں کس چیز کی دعوت دی تھی ؟ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کے خون کو کس بنا پر حلال قرار دیا ؟ انہوں نے فرمایا کہ جب صفین کے مقام پر اہل شام میں قتل زور پکڑ گیا تو حضرت معاویہ اور ان کے ساتھیوں نے ایک پہاڑ کو ٹھکانہ بنایا۔ حضرت عمرو بن عاص نے فرمایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف مصحف بھیجو، خدا کی قسم ! وہ اس کا انکار نہیں کریں گے۔ پس ایک آدمی مصحف لایا اور وہ یہ اعلان کررہا تھا کہ ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب ہے { أَلَمْ تَرَ إِلَی الَّذِینَ أُوتُوا نَصِیبًا مِنَ الْکِتَابِ یُدْعَوْنَ إِلَی کِتَابِ اللہِ لِیَحْکُمَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ یَتَوَلَّی فَرِیقٌ مِنْہُمْ وَہُمْ مُعْرِضُونَ } اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہاں، ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب ہے اور میں اس پر عمل کرنے کا تم سے زیادہ پابند ہوں۔ (٢) پھر خوارج آئے اور ان دنوں ہم انہیں ” قرائ “ کہا کرتے تھے۔ وہ اپنی تلواروں کو کندھے پر لٹکا کر لائے اور کہنے لگے اے امیر المؤمنین ! کیا ہم ان لوگوں کی طرف پیش قدمی نہ کریں کہ اللہ ان کے اور ہمارے درمیان فیصلہ فرما دے۔ اس پر حضرت سہل بن حنیف نے فرمایا کہ اے لوگو ! اپنے نفوس کی مذمت کرو، ہم حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے۔ اگر ہم قتال کو مستحسن سمجھتے تو قتال کرتے۔ یہ وہ صلح کا معاہدہ تھا جو مشرکین اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان ہوا تھا۔ اس موقع پر حضرت عمر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ کیا ہم حق پر اور ہمارا دشمن باطل پر نہیں ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں۔ ایسا ہی ہے۔ حضرت عمر نے عرض کیا کہ کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے مقتول جہنم میں نہیں جائیں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا ہی ہے۔ حضرت عمر نے عرض کیا کہ پھر ہم اپنے دین میں ذلت کو کیوں قبول کریں، اور واپس لوٹ جائیں جبکہ اللہ نے ان کے اور ہمارے درمیان فیصلہ نہیں فرمایا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابن خطاب ! میں اللہ کا رسول ہوں، اللہ مجھے ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔ (٣) پھر حضرت عمر غصے کی حالت میں حضرت ابوبکر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ اے ابوبکر ! کیا ہم حق پر اور ہمارا دشمن باطل پر نہیں ہے ؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا کیوں نہیں۔ ایسا ہی ہے۔ حضرت عمر نے عرض کیا کہ کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے مقتول جہنم میں نہیں جائیں گے ؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا کہ ایسا ہی ہے۔ حضرت عمر نے عرض کیا کہ پھر ہم اپنے دین میں ذلت کو کیوں قبول کریں، اور واپس لوٹ جائیں جبکہ اللہ نے ان کے اور ہمارے درمیان فیصلہ نہیں فرمایا ہے۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا کہ اے ابن خطاب ! وہ اللہ کے رسول ہوں، اللہ انہیں ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔ (٤) پھر اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سورة الفتح کو نازل کیا، آپ نے کسی کو بھیج کو حضرت عمر کو بلایا اور ان کے سامنے اس سورت کی تلاوت فرمائی۔ حضرت عمر نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! کیا یہ فتح ہے ؟ آپ نے فرمایا جی ہاں۔ پھر وہ خوش ہوگئے اور واپس چلے گئے۔ (٥) اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اے لوگو ! یہ فتح ہے۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس فیصلے کو قبول فرمالیا اور واپس چلے گئے اور لوگ بھی واپس چلے گئے۔ (٦) حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس فیصلے کو قبول کرنے کے بعد خوارج کے دس ہزار سے زیادہ لوگ حروراء چلے گئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں اللہ کا واسطہ دے کر واپس آنے کو کہا لیکن انہوں نے انکار کردیا۔ پھر ان کے پاس صعصعہ بن صوحان آئے اور اللہ کا واسطہ دیا اور ان سے پوچھا کہ تم کس بنیاد پر اپنے خلیفہ سے قتال کرو گے ؟ انہوں نے کہا کہ ہمیں فتنہ کا خوف ہے۔ اس نے کہا کہ آنے والے سال کے فتنے سے عوام کو ابھی سے گمراہ مت کرو۔ وہ واپس چلے گئے اور انہوں نے کہا کہ ہم اپنے علاقے میں جارہے ہیں کیونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فیصلے کو قبول کرلیا ہے۔ ہم نے اسی وجہ سے قتال کیا جس وجہ سے صفین کی جنگ میں قتال کیا تھا اور اگر وہ فیصلے کو قبول کرنے سے انکار کردیں تو ہم ان کے ساتھ قتال کریں گے۔ (٧) پھر وہ لوگ چلے اور جب وہ نہروان پہنچے تو ایک جماعت ان سے الگ ہوگئی اور لوگوں کو قتل کی دھمکی دینے لگی۔ ان کے ساتھیوں نے کہا کہ تمہارا ناس ہو کیا ہم نے اس بات پر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے علیحدگی اختیار کی تھی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ان کی یہ خبر پہنچی تو آپ نے لوگوں میں کھڑے ہوکر خطبہ ارشاد فرمایا اور اس میں فرمایا کہ تم کیا دیکھتے ہو ؟ کیا تم شام کی طرف جارہے ہو یا تم ا

حواشی
(١) في [ع]: (ساه).
(٢) في [أ، ب]: (نعم).
(٣) في [ب، هـ]: (فيما).
(٤) في [أ، ب]: (استحللوه له)، وفي [جـ، ع]: (استحالوا له)، وفي [س]: (استحلوا الدم)، وفي [هـ]: (استجابوا له).
(٥) في [ب، هـ]: (فيما).
(٦) في [ع]: (فيما).
(٧) في [س]: (استحق).
(٨) في [ب]: (استجر)، وفي [ع]: (استحق).
(٩) في [س]: (بحمل).
(١٠) في [أ، ب، س، ع]: (العاصي).
(١١) سقط من: [س].
(١٢) في [س]: بياض.
(١٣) في [ع]: (يومئذ نسميهم).
(١٤) في [س]: (بأشيانهم).
(١٥) في [ع]: زيادة (أعناقهم).
(١٦) في [ع]: (الأ).
(١٧) في [ع]: (لو).
(١٨) سقط من: [ع].
(١٩) سقط من: [أ، ب].
(٢٠) في [ع]: (الدية).
(٢١) سقط من: [جـ].
(٢٢) في [ع]: (ليس).
(٢٣) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(٢٤) سقط من: [ع].
(٢٥) في [ع]: (غام).
(٢٦) في [ع]: زيادة (قال).
(٢٧) في [هـ]: (فقاتلوا).
(٢٨) في [ع]: (علي).
(٢٩) في [أ، ب، جـ، ع]: زيادة (قاتلنا على ما).
(٣٠) في [ع]: (على ما هذا).
(٣١) في [ع]: (علي).
(٣٢) في [ع]: (علي).
(٣٣) في [ع]: (ما).
(٣٤) في [ع]: (لما).
(٣٥) في [ع]: زيادة (من).
(٣٦) في [أ، ب]: (يقوم).
(٣٧) في [ع]: (قاتلناهم).
(٣٨) في [أ، ب، ط، هـ]: (فأخبروه).
(٣٩) في [ع]: (حسنًا).
(٤٠) في [أ، ب، هـ]: (فساروا).
(٤١) سقط من: [هـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله / حدیث: 40724
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣١٨٢، ٤٨٤٤)، ومسلم (١٧٨٥)، وأحمد ٣/ ٤٨٥ (١٥٩٧٥)، والنسائي (١١٥٠٤)، وأبو يعلى (٤٧٤)، وإسحاق كما في المطالب العالية (٤٤٣٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40724، ترقيم محمد عوامة 39069)