مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله
ما (ذكر) في الخوارج باب: خوارج کا بیان
٤٠٧١٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال: حدثنا محمد بن عمرو عن أبي سلمة قال: قلت لأبي سعيد الخدري: هل سمعت (من) (١) رسول اللَّه ﷺ يذكر في ⦗٥٥٠⦘ الحرورية شيئًا؟ قال: نعم، سمعته يذكر قوما يعبدون، "يحقر أحدكم صلاته وصومه مع صومهم، (يمرقون) (٢) من الدين كما (يمرق) (٣) السهم من الرمية"، أخذ (سيفه) (٤) فنظر في نصله فلم ير شيئًا، فنظر في (رصافه) (٥) فلم ير شيئا، فنظر في قدحه فلم ير شيئا، فنظر في (القذذ) (٦) فتمارى هل يرى شيئا أم لا (٧).حضرت ابو سلمہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو سعید خدری سے عرض کیا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کبھی حروریہ کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے۔ حضرت ابو سعید نے فرمایا کہ ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک قوم کا تذکرہ کرتے سنا جو عبادت کرتے ہوں گے، آپ نے فرمایا کہ تم ان کی عبادت کے سامنے اپنی عبادت کو حقیر سمجھو گے، ان کے روزے کے سامنے اپنے روزے کو حقیر سمجھو گے، وہ دین سے یوں نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔ وہ اپنی تلوار کو لے گا پھر وہ اپنے تیر کے پھل کو دیکھے گے وہاں کچھ نہ پائے گا، اس کے عقبی حصے کو دیکھے گا وہاں بھی کچھ نہ پائے گا۔ وہ اپنے تیر کی لکڑی کو دیکھے گا وہاں بھی کچھ نہ پائے گا، پھر تیر کے پروں کو دیکھے گا اور اسے شک ہوگا کہ اس نے کچھ دیکھا بھی ہے یا نہیں۔