حدیث نمبر: 40717
٤٠٧١٧ - حدثنا عفان قال: حدثنا شعبة عن أبي إسحاق قال: سمعت عاصم ابن ضمرة (قال) (١): إن خارجة خرجت على حكم، فقالوا: لا حكم إلا للَّه، فقال علي: إنه لا حُكم إلا للَّه، [ولكنهم يقولون: لا إمرة، ولا (بد) (٢) للناس من أمير بر أو فاجر، يعمل في إمارته المؤمن (ويستمتع فيها)) (٣) (٤) الكافر، ويبلغ اللَّه] (٥) فيه (الأجل) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عاصم بن ضمرہ فرماتے ہیں کہ خوارج نے حکومت کے خلاف آواز اٹھائی اور یہ نعرہ بلند کیا کہ اللہ کے سوا کسی کی حکومت نہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس پر فرمایا کہ بیشک اللہ کے سوا کسی کی حکومت نہیں، لیکن یہ لوگ کہتے ہیں کہ کسی کی امارت نہیں حالانکہ لوگوں کے لئے ایک امیر کا ہونا ضروری ہے خواہ وہ نیک ہو یا بد۔ مومن اس کی امارت میں کام کرے، کافر اس میں زندگی گزارے اور اللہ تعالیٰ اسے اسی کی مدت تک پہنچا دے۔

حواشی
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [ع]: (يد).
(٣) في [ع]: (فيه).
(٤) في [س]: (ويستمع منها).
(٥) سقط ما بين المعكوفين من: [ع].
(٦) في [ط]: (فيها الأمل)، وفي [س]: (تسمية البلى).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله / حدیث: 40717
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عاصم صدوق، أخرجه البيهقي ٨/ ١٨٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40717، ترقيم محمد عوامة 39062)