حدیث نمبر: 40706
٤٠٧٠٦ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا سليمان بن المغيرة عن حميد بن هلال قال: حدثني رجل من عبد القيس قال: كنت مع الخوارج فرأيت منهم شيئا ⦗٥٤٣⦘ كرهته، (ففارقتهم) (١) على أن لا أكثر عليهم، فبينا أنا مع طائفة منهم إذ رأوا رجلا (خرج) (٢) كأنه (فزع) (٣)، وبينهم وبينه نهر، فقطعوا إليه النهر، فقالوا: كأنا رعناك؟ قال: أجل، قالوا: ومن أنت؟ قالا: أنا عبد اللَّه بن خباب بن (الأرت) (٤)، قالوا: عندك حديث تحدثناه عن أبيك عن رسول اللَّه ﷺ، (فقال: حدثني أبي عن رسول اللَّه ﷺ) (٥): "إن فتنة جائية، القاعد فيها خير من القائم، والقائم فيها خير من الماشي، فإذا لقيتهم فإن استطعت أن تكون عبد اللَّه المقتول (فلا) (٦) تكن عبد اللَّه القاتل"، قال: فقربوه إلى (النهر) (٧) فضربوا عنقه فرأيت دمه يسيل (يجري) (٨) على الماء كأنه شراكٌ (ما (ابذقر) (٩) بالماء حتى توارى عنه، ثم دعوا بسرية له حبلى فبقروا عما في بطنها (١٠).
مولانا محمد اویس سرور

بنو عبد القیس کے ایک آدمی بیان کرتے ہیں کہ میں خوارج کے ساتھ تھا کہ میں نے ان میں ایسی چیزوں کو دیکھا جنہیں میں پسند نہیں کرتا تھا۔ لہٰذا میں نے ان سے جدائی کا فیصلہ کرلیا۔ میں ابھی انہی کی ایک جماعت کے ساتھ تھا کہ انہوں نے ایک آدمی کو دیکھا، جس کے اور ان کے درمیان نہر حائل تھی۔ انہوں نے اس آدمی کو پکڑنے کے لئے نہر عبور کی اور کہا کہ شاید ہم نے تمہیں ڈرا دیا۔ اس نے کہا ہاں کچھ یونہی ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ تم کون ہو ؟ اس آدمی نے کہا کہ میں عبد اللہ بن خباب بن ارت ہوں۔ انہوں نے کہا کہ تمہارے پاس ایک حدیث ہے جو تم اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہو۔ انہوں نے فرمایا کہ ہاں میرے والد نے مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے بیان کیا کہ فتنہ آنے والا ہے۔ اس میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا اور کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا۔ اگر تم اللہ کے مقتول بندے بن سکو تو بن جانا لیکن اللہ کے قاتل بندے نہ بننا۔ پھر وہ لوگ حضرت عبد اللہ بن خباب کو نہر کے قریب لے گئے اور ان کی گردن کاٹ ڈالی۔ میں نے ان کے خون کو نہر کی لہروں پر بہتے ہوئے دیکھا ، پھر انہوں نے حضرت عبد اللہ بن خباب کی ایک حاملہ باندی کو بلایا اور اس کے پیٹ کو چاک کرڈالا۔

حواشی
(١) سقط من: [جـ].
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [هـ]: (قرع).
(٤) في [ع]: (الأرث).
(٥) في [هـ]: (قال سمعته يقول: أنه سمع النبي ﷺ يقول).
(٦) في [ع]: (ولا).
(٧) في [ط]: (النهرة).
(٨) سقط من: [هـ].
(٩) في [هـ]: (ماء اندفر)، وفي [أ]: (ما اندثر)، وفي [جـ]: (ما المدفر).
(١٠) مجهول؛ لإبهام الرجل القيسي، أخرجه أحمد (٢١٠٦٤)، وابن سعد ٥/ ٢٤٥، وعبد الرزاق (١٨٥٧٨)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٨٣)، وأبو يعلى (٧٢١٥)، والطبراني (٣٦٣٠)، والدارقطني ٣/ ١٣٢، والخطيب ١/ ٢٠٥، وأبو عبيد في غريب الحديث ٤/ ٢٩٥.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله / حدیث: 40706
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40706، ترقيم محمد عوامة 39051)