حدیث نمبر: 40703
٤٠٧٠٣ - حدثنا يزيد بن هارون الواسطي قال: (حدثنا) (١) سليمان التيمي عن ⦗٥٤١⦘ أبي مجلز قال: نهى علي أصحابه أن (يبسطوا) (٢) على الخوارج حتى يحدثوا حدثا فمروا بعبد اللَّه بن خباب فأخذوه. فمر بعضهم على تمرة ساقطة من نخلة فأخذها فألقاها في فيه، فقال بعضهم: تمرة معاهَد، فبم استحللتها؟ فألقاها من فيه. ثم مروا على خنزير (فنفحه) (٣) بعضهم بسيفه، فقال بعضهم: خنزير معاهد، فبم استحللته؟ فقال عبد اللَّه: ألا أدلكم على ما هو أعظم عليكم حرمة من هذا؟ قالوا: نعم، قال: أنا، فقدموه فضربوا عنقه. فأرسل إليهم علي أن أقيدونا (بعبد اللَّه) (٤) بن خباب، فأرسلوا إليه: وكيف نقيدك وكلنا قتله، قال: أوكلكم قتله؟ قالوا: نعم، (فقال) (٥): اللَّه أكبر. ثم أمر أصحابه أن (يبسطوا) (٦) عليهم، قال: واللَّه لا يقتل منكم عشرة ولا (يفلت) (٧) منهم عشرة، قال: فقتلوهم. فقال: اطلبوا فيهم ذا الثدية، فطلبوه (فأتي) (٨) به، فقال: من يعرفه؟ فلم يجدوا أحدا يعرفه إلا رجلًا، قال: أنا رأيته (بالحيرة) (٩)، فقلت له: أين تريد؟ (قال) (١٠): هذه، وأشار إلى الكوفة، (ومالي) (١١) بها معرفة، قال: فقال علي: ⦗٥٤٢⦘ صدق هو من الجان (١٢)
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو خوارج کے ساتھ معرکہ آرائی سے اس وقت تک منع کیا جب تک وہ خود چھیڑ خانی نہ کریں۔ چناچہ خوارج حضرت عبد اللہ بن خباب کے پاس سے گزرے اور انہیں پکڑ لیا۔ پھر ان میں سے ایک شخص ایک کھجور کے درخت سے گری ہوئی کھجور کو اٹھا کر کھانے لگا تو ایک شخص اسے ٹوکتے ہوئے بولا کہ یہ ایک ذمی کی کھجور ہے تم اسے کیسے حلال سمجھتے ہو ؟ چناچہ اس نے کھجور منہ سے پھینک دی۔ پھر وہ ایک خنزیر کے پاس سے گزرے تو ایک آدمی نے اسے اپنی تلوار ماری۔ ایک شخص اسے ٹوکتے ہوئے بولا کہ یہ ایک ذمی کا خنزیر ہے تم اسے اپنے لئے کیسے حلال سمجھتے ہو ؟ حضرت عبد اللہ بن خباب نے فرمایا کہ کیا میں نے تمہیں ان چیزوں سے زیادہ قابل احترام چیز کا نہ بتاؤں ؟ انہوں نے کہا بتائیے، حضرت عبد اللہ بن خباب نے فرمایا کہ میں ہوں۔ وہ آگے بڑھے اور حضرت عبد اللہ بن خباب کی گردن کاٹ ڈالی۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف پیغام بھیجا کہ حضرت عبد اللہ بن خباب کے قاتل کو میری طرف بھیج دو ۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم ان کے قاتل آپ کو کیسے بھیجیں، ہم سب نے انہیں قتل کیا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا تم سب نے انہیں قتل کیا ہے ؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اللہ اکبر کہا اور پھر اپنے ساتھیوں کو ان پر چڑھائی کا حکم دے دیا۔ اور فرمایا خدا کی قسم ! تم میں سے دس آدمی قتل نہیں ہوں گے اور ان میں سے دس آدمی باقی نہیں بچیں گے۔ پس لوگوں نے ان سے قتال کیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں حکم دیا کہ ان میں ذوالثدیہ کو تلاش کرو۔ لوگوں نے اسے تلاش کیا اور اسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا انہوں نے پوچھا کہ اسے کون جانتا ہے۔ پھر صرف ایک آدمی ملا جو اسے جانتا تھا۔ اس نے کہا کہ میں نے اسے حیرہ میں دیکھا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ تم کہاں جارہے ہو ؟ اس نے کہا کہ اس طرف، اور پھر اس نے کوفہ کی طرف اشارہ کیا جبکہ مجھے اس کا علم نہ تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ جنوں میں سے ہے، اس نے سچ کہا۔

حواشی
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [س]: (بسطوا)، وفي [هـ]: (يسطوا).
(٣) في [هـ]: (فنفخه).
(٤) في [ع]: (لعبد اللَّه).
(٥) في [ع]: (قال).
(٦) في [هـ]: (يسطوا).
(٧) في [أ، ب، س]: (يغلب).
(٨) في [ع]: (فأتوا).
(٩) في [هـ]: (بالحيوة).
(١٠) في [ع]: (فقال).
(١١) في [جـ]: (مال).
(١٢) منقطع؛ أبو مجلز لا يروي عن علي، أخرجه الدارقطني ٣/ ١٣١، وأبو عبيد في الأموال (٤٧٥)، والبيهقي ٨/ ١٨٤، ومسدد كما في المطالب العالية (٤٤٤٠)، وفيه: (عن أبي مجلز أراه عن قيس بن عباد)، وسيأتي بنحوه برقم [٤٠٧٠٦].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله / حدیث: 40703
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40703، ترقيم محمد عوامة 39048)