حدیث نمبر: 40702
٤٠٧٠٢ - حدثنا قطن بن عبد اللَّه (أبو مرى) (١) عن أبي غالب قال: كنت في مسجد دمشق فجاءوا بسبعين رأسا من رؤوس الحرورية فنصبت على درج المسجد، فجاء أبو (أمامة) (٢) فنظر إليهم فقال: كلاب جهنم، شر قتلى قُتلوا تحت ظل السماء، ومن قَتلوا خير قتلى تحت (ظل) (٣) السماء، وبكى (ونظر) (٤) إليَّ وقال: يا أبا غالب إنك من بلد هؤلاء؟ قلت: نعم، (قال) (٥): أعاذك - (قال) (٦): أظنه ⦗٥٤٠⦘ قال- اللَّه منهم، قال: تقرأ آل عمران؟ قلت: نعم، قال: ﴿مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّهُ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ﴾ [آل عمران: ٧] قال: ﴿يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ فَأَمَّا الَّذِينَ اسْوَدَّتْ وُجُوهُهُمْ أَكَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُونَ﴾ [آل عمران: ١٠٦]، قلت: يا أبا (أمامة) (٧) إني رأيتك تهريق عبرتك؟ قال: نعم! رحمة لهم، إنهم كانوا من أهل الإسلام، قال: افترقت بنو إسرائيل على واحدة وسبعين فرقة، وتزيد هذه الأمة فرقة واحدة، كلها في النار إلا السواد الأعظم؛ عليهم ما حملوا وعليكم ما حملتم، وإن تطيعوه تهتدوا، وما على الرسول إلا البلاغ (المبين) (٨)، السمع والطاعة خير من الفرقة والمعصية، فقال له رجل: يا أبا أمامة! أمن رأيك تقول (أم من) (٩) شيء سمعته من رسول اللَّه ﷺ؟ قال: إني إذن لجريء، قال: بل سمعته من رسول اللَّه ﷺ غير مرة ولا مرتين -حتى ذكر سبعًا (١٠).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو غالب فرماتے ہیں کہ میں دمشق کی جامع مسجد میں تھا کہ لوگ ستر خارجیوں (حروریوں) کے سر لے کر آئے۔ ان سروں کو مسجد کی سیڑھیوں پر نصب کردیا گیا۔ جب حضرت ابو امامہ تشریف لائے اور ان کے سروں کو دیکھا تو فرمایا کہ یہ جہنم کے کتے ہیں۔ آسمان کے نے چر مارے جانے والے یہ بدترین مخلوق ہیں۔ اور جنہیں انہوں نے قتل کیا ہے وہ آسمان کے نیچے سب سے بہترین مقتول ہیں۔ پھر وہ روئے اور میری طرف دیکھا اور مجھ سے فرمایا کہ اے ابو غالب ! تم ان لوگوں کے شہر سے ہو ؟ میں نے کہا جی ہاں۔ انہوں نے فرمایا کہ اللہ نے تمہیں محفوظ رکھا۔ پھر فرمایا کہ کیا تم سورة آل عمران پڑھتے ہو ؟ میں نے کہا جی ہاں۔ انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :{ مِنْہُ آیَاتٌ مُحْکَمَاتٌ ہُنَّ أُمُّ الْکِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِہَاتٌ فَأَمَّا الَّذِینَ فِی قُلُوبِہِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَہَ مِنْہُ ابْتِغَائَ الْفِتْنَۃِ وَابْتِغَائَ تَأْوِیلِہِ ، وَمَا یَعْلَمُ تَأْوِیلَہُ إِلاَّ اللَّہُ وَالرَّاسِخُونَ فِی الْعِلْمِ } اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : { یَوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوہٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوہٌ فَأَمَّا الَّذِینَ اسْوَدَّتْ وُجُوہُہُمْ أَکَفَرْتُمْ بَعْدَ إیمَانِکُمْ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُونَ } حضرت ابو غالب فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے ابوامامہ ! میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، اس کی کیا وجہ ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! ان پر رحمت کی وجہ سے میری آنکھوں سے آنسو نکل رہے ہیں۔ وہ اہل اسلام میں سے تھے۔ بنی اسرائیل والے اکہتر فرقوں میں تقسیم ہوئے اور اس امت میں ایک فرقے کا اضافہ ہوگا، وہ سب جہنم میں جائیں گے سوائے بڑی جماعت کے۔ ان پر وہ ہے جس کے وہ مکلف بنائے گئے اور تم پر وہ ہے جس کے تم مکلف بنائے گئے۔ اگر تم اس بڑی جماعت کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پا جاؤ گے اور پیغام دینے والے پر تو بات کو کھول کھول کر بیان کردینا ہی ہوتا ہے۔ بات کو سننا اور اطاعت کرنا فرقہ میں پڑنے اور معصیت سے بہتر ہے۔ ایک آدمی نے ان سے کہا کہ اے ابو امامہ ! یہ بات آپ اپنی رائے سے کہہ رہے ہیں یا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر میں یہ بات اپنی رائے سے کہوں تو دین کے معاملے میں جرأت کرنے والا بن جاؤں گا ! میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک ، دو مرتبہ نہیں بلکہ سات مرتبہ سنی ہے۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (الوتري).
(٢) في [س]: (أسامة).
(٣) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (طل)، وسقط من: [هـ].
(٤) في [هـ]: (فنظر).
(٥) في [ع]: (قالي).
(٦) سقط من: [أ، ب].
(٧) في [ع]: (أمية).
(٨) سقط من: [جـ، س، ط، هـ].
(٩) في [ع]: (أمن)، وفي [هـ]: (أم).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله / حدیث: 40702
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو غالب صدوق، وقطن ويقال: قطري ذكره ابن حبان في الثقات، وروى عنه جماعة منهم المصنف، أخرجه أحمد (٢٢١٨٤)، والترمذي (٣٠٠٠)، وابن ماجه (١٧٦)، والحاكم ٢/ ١٤٩، والحميدي (٩٠٨)، والحارث كما في الإتحاف (٤٦٦٢)، وعبد اللَّه بن أحمد في السنة (١٥٤٤)، والطحاوي في شرح المشكل (٢٥١٩)، والطبراني (٨٠٣٥)، والآجري في الشريعة ص ٣٥، والخليلي في الإرشاد ٢/ ٤٦٨، والبيهقي ٨/ ١٨٨، والخطيب في التاريخ ٩/ ٣٩٤، وعبد الرزاق (١٨٦٦٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40702، ترقيم محمد عوامة 39047)