حدیث نمبر: 40686
٤٠٦٨٦ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن شمر عن عبد اللَّه بن سنان الأسدي قال: رأيت عليا يوم صفين ومعه سيف رسول اللَّه ﷺ ذو الفقار قال: فنضبطه (فيفلت) (١) فيحمل عليهم، (قال) (٢): ثم يجيء، قال: ثم يحمل عليهم (٣)، قال: فجاء بسيفه قد (تثنى) (٤) فقال: إن هذا يعتذر إليكم (٥).
مولانا محمد اویس سرور

عبد اللہ بن سنان اسدی فرماتے ہیں کہ میں نے جنگ صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا، ان کے ہاتھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذوالفقار نامی تلوار تھی۔ ہم ان کے اردگرد رہتے تھے لیکن وہ ہمیں پیچھے چھوڑ دیتے تھے، وہ حملہ کرتے پھر آتے پھر حملہ کرتے۔ پھر وہ اپنی تلوار لائے تو وہ دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوچکی تھی۔ آپ نے فرمایا کہ یہ تمہارے لئے عذر پیش کرتی ہے۔

حواشی
(١) في [س]: (فيتفلت).
(٢) سقط من: [ع].
(٣) في [ع]: زيادة (ثم يجيء).
(٤) في [ع]: (تثنا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله / حدیث: 40686
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه ابن أبي الدنيا في مكارم الأخلاق (١٦٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40686، ترقيم محمد عوامة 39033)