حدیث نمبر: 40682
٤٠٦٨٢ - حدثنا ابن إدريس (عن ليث) (١) عن عبد العزيز بن رفيع قال: لا سار عليٌّ إلى صفين استخلف أبا مسعود على الناس فخطبهم يوم الجمعة فرأى فيهم قلة فقال: يا أيها الناس اخرجوا فمن خرج فهو آمن، إنا نعلم واللَّه أن منكم الكاره لهذا الوجه (والمتثاقل) (٢) عنه، اخرجوا فمن خرج فهو آمن، واللَّه ما نعدها عافية أن يلتقي هذان (الغاران) (٣) (يتقي) (٤) أحدهما الآخر، ولكن (نعدها) (٥) عافية أن ⦗٥٣٢⦘ يصلح اللَّه أمة محمد (٦)، ويجمع ألفتها. ألا أخبركم عن عثمان وما نقم الناس عليه؟ أنهم (لم) (٧) يدعوه وذنبه حتى يكون اللَّه (٨) يعذبه أو يعفو عنه، ولم يدرك الذين (ظلموا) (٩) إذ حسدوه ما (آتاه) (١٠) اللَّه إياه. فلما قدم علي قال (له) (١١): أنت القائل ما بلغني عنك (يا) (١٢) (فروخ) (١٣)، إنك شيخ قد ذهب عقلك، قال: لقد سمتني أمي باسم أحسن من هذا، أذهب عقلي وقد وجبت لي الجنة من اللَّه (ومن) (١٤) رسوله (١٥)، تعلمه أنت، وما بقي من عقلي فإنا كنا نتحدث: أن الآخر فالآخر (شر) (١٦). قال: فلما كان (بالسيلحين) (١٧) أو بالقادسية خرج عليهم وظفراه (يقطران) (١٨) (يرى) (١٩) أنه قد تهيأ للإحرام، فلما وضع رجله في الغرز وأخذ بمؤخر ⦗٥٣٣⦘ واسطة (الرحل) (٢٠) قام إليه ناس من الناس فقالوا: لو عهدت إلينا يا أبا مسعود، (فقال) (٢١): عليكم بتقوى اللَّه والجماعة، فإن اللَّه لا يجمع أمة محمد على ضلالة، قال: فأعادوا عليه فقال: عليكم بتقوى اللَّه والجماعة فإنما يستريح بر أو يستراح من فاجر (٢٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد العزیز بن رفیع فرماتے ہیں کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ صفین گئے تو انہوں نے حضرت ابو مسعود کو لوگوں کا حاکم بنایا۔ انہوں نے جمعہ کے دن لوگوں کو خطبہ دیا تو لوگوں کو کم پایا۔ تو فرمایا اے لوگو ! باہر نکلو، جو باہر نکلا وہ مامون ہوگا۔ بخدا ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے بعض لوگ اس صورت کو ناپسند سمجھتے ہیں اور بوجھل خیال کرتے ہیں۔ باہر نکلو جو باہر نکلا وہ امن پائے گا۔ بخدا ہم اس چیز کو عافیت نہیں سمجھتے کہ یہ دو جماعتیں لڑیں اور ایک دوسرے سے ڈرے۔ بلکہ عافیت اس میں ہے کہ اللہ تعالیٰ امت محمدیہ کی اصلاح فرمائے اور ان کو جمع کردے۔ میں تمہیں حضرت عثمان کے بارے میں بتاتا ہوں اور جو لوگوں نے ان سے انتقام لیا۔ لوگوں نے انہیں کسی حق کے ثابت کرنے کے لئے شہید نہیں کیا بلکہ وہ ان نعمتوں پر حسد کرتے تھے جو اللہ نے حضرت عثمان کو عطا فرمائی تھیں۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہائے تو آپ نے فرمایا کہ اے فروخ ! کیا آپ نے وہ بات کی جو میں نے سنی ہے ؟ آپ ایک ایسے بوڑھے ہیں جس کی عقل ختم ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری ماں نے میرا نام اس نام سے اچھا رکھا ہے جو آپ نے مجھے دیا ہے۔ کیا میری عقل چلی گئی ہے اور میرے لئے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنت واجب ہوگئی ہے۔ آپ بھی اس بات کو جانتے ہیں۔ میری عقل باقی نہیں رہی۔ ہم باہم گفتگو کیا کرتے تھے کہ آخر شر ہے۔ جب وہ سیلحین یا قادسیہ میں تھے تو لوگوں کے سامنے آئے اور ان کے بالوں سے پانی ٹپک رہا تھا، یوں محسوس ہوتا تھا کہ وہ احرام کی تیاری کررہے ہیں۔ جب انہوں نے سواری پر سوار ہونے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے کہا کہ اے ابو مسعود ! ہمیں کوئی نصیحت فرمادیجئے۔ انہوں نے فرمایا کہ تم پر تقویٰ لازم ہے اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ جڑے رہو، کیونکہ مسلمانوں کی جماعت گمراہی پر جمع نہیں ہوسکتی۔ لوگوں نے پھر نصیحت کی درخواست کی تو آپ نے فرمایا کہ تم پر تقویٰ لازم ہے اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ جڑے رہو، نیک آدمی راحت پاتا ہے یا برے سے راحت پائی جاتی ہے۔

حواشی
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [أ، ب، جـ]: (المتشاغل).
(٣) في [ع]: (القراءان)، وفي [س، هـ]: (العراءان)، وفي [أ]: (العران).
(٤) في [ع]: (فيقي).
(٥) في [أ، ب، س]: (بعدما).
(٦) في [جـ]: زيادة ﷺ.
(٧) في [أ، ب]: (لن).
(٨) في [هـ]: زيادة (هو).
(٩) في [هـ]: (طلبوه).
(١٠) في [هـ]: (أتى).
(١١) سقط من: [هـ].
(١٢) سقط من: [جـ].
(١٣) في [جـ]: (أفروخ)، وفي [هـ]: (فروج).
(١٤) سقط من: [س].
(١٥) في [جـ]: زيادة ﷺ.
(١٦) سقط من: [س].
(١٧) في [أ، ب]: (بالسيلحين)، وفي [س]: (بالسليحين)، وفي [ع]: (بالسيحين).
(١٨) في [س]: (تقطران).
(١٩) في [ع]: (يرا).
(٢٠) في [أ، ب]: (الرجل).
(٢١) في [أ، ب]: (قال).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله / حدیث: 40682
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع؛ عبد العزيز بن رفيع لم يدرك عليًّا، وليث ضعيف.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40682، ترقيم محمد عوامة 39029)