حدیث نمبر: 40670
٤٠٦٧٠ - حدثنا ابن فضيل عن عطاء بن السائب قال: حدثني غير واحد أن (قاضيا) (١) من قضاة الشام أتى عمر فقال: يا أمير المؤمنين، (٢) رؤيا أفظعتني، قال: ما هي؟ قال: رأيت الشمس والقمر يقتتلان، والنجوم معهما نصفين، قال: فمع ⦗٥٢٦⦘ (أيتهما) (٣) كنت؟ قال: كنت مع القمر على الشمس، (٤) فقال: عمر: ﴿وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ آيَتَيْنِ فَمَحَوْنَا آيَةَ اللَّيْلِ وَجَعَلْنَا آيَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً﴾ [الإسراء: ١٢] فانطلق فواللَّه لا تعمل لي عملا أبدا (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عطاء بن سائب فرماتے ہیں کہ مجھ سے کئی لوگوں نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ شام کا ایک قاضی حضرت عمر کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ اے امیر المومنین میں نے ایک خواب دیکھا جس نے مجھے خوفزدہ کردیا ہے۔ میں نے دیکھا کہ سورج اور چاند باہم قتال کررہے ہیں اور ستارے آدھے آدھے دونوں کے ساتھ ہیں۔ حضرت عمر نے اس سے پوچھا کہ تم کس کے ساتھ تھے ؟ میں نے کہا کہ میں چاند کے ساتھ تھا اور سورج کے خلاف لڑرہا تھا۔ حضرت عمر نے قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی { وَجَعَلْنَا اللَّیْلَ وَالنَّہَارَ آیَتَیْنِ فَمَحَوْنَا آیَۃَ اللَّیْلِ وَجَعَلْنَا آیَۃَ النَّہَارِ مُبْصِرَۃً } پھر فرمایا کہ چلے جاؤ، میں آئندہ تمہیں کوئی کام نہیں دوں گا۔ حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ جنگ صفین میں حضرت معاویہ کی معیت میں مارا گیا تھا۔

حواشی
(١) في [ع]: (قاضي).
(٢) في [هـ]: زيادة (رأيت).
(٣) في [ع]: (أيهما).
(٤) في [ع]: زيادة (قال).
(٥) مجهول؛ لجهالة الراوي عن عمر.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله / حدیث: 40670
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40670، ترقيم محمد عوامة 39019)