مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله
باب ما ذكر في صفين باب: جنگ صفین کا بیان
٤٠٦٥١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) العوام بن حوشب قال: حدثني أسود بن مسعود عن حنظلة بن خويلد (العنزي) (٢) قال: إني لجالس عند معاوية إذ أتاه رجلان يختصمان في رأس عمار، كل واحد منهما يقول: أنا قتلته، قال عبد اللَّه بن عمرو: (ليطب) (٣) به أحدكما نفسا لصاحبه، فإني سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "تقتله الفئة الباغية"، فقال معاوية: ألا تغني عنا مجنونك يا عمرو، فما بالك معنا؟ قال: إني معكم ولست أقاتل، إن أبي شكاني إلى رسول اللَّه ﷺ، فقال رسول اللَّه ﷺ: "أطع أباك ما دام حيًا ولا تعصه"، فأنا معكم، ولست أقاتل (٤).حضرت حنظلہ بن خویلد عنزی کہتے ہیں کہ میں حضرت معاویہ کے پاس بیٹھا تھا کہ ان کے پاس دو آدمی حضرت عمار کی شہادت کا دعویٰ کرتے ہوئے آئے۔ ایک کہتا تھا کہ انہیں میں نے مارا اور دوسرا کہتا تھا کہ انہیں میں نے مارا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک کو دوسرے کے لئے دستبردار ہونا پڑے گاکیون کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عمار کو ایک باغی جماعت شہید کرے گی۔ یہ سن کر حضرت معاویہ نے فرمایا کہ اے عمرو ! تمہارا ہمارے بارے میں کیا خیال ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں لکن میں قتال نہیں کروں گا۔ میرے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میری شکایت کی تھی تو آپ نے مجھے فرمایا تھا کہ اپنے باپ کی اطاعت کرو اور جب تک زندہ ہو ان کی نافرمانی نہ کرنا۔ لہٰذا میں تمہارے ساتھ ہوں لیکن قتال نہیں کروں گا۔