مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله
في مسير عائشة وعلي وطلحة والزبير ﵃ باب: سیدہ عائشہ، سیدنا علی، سیدنا طلحہ، اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم کے سفر کے بارے میں
حدیث نمبر: 40634
٤٠٦٣٤ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثني أبو بكر عن جحش بن زياد الضبي قال: سمعت الأحنف بن قيس يقول: لما ظهر عليٌّ على (أهل البصرة) (١) أرسل إلى عائشة: ارجعي إلى المدينة وإلى بيتك، قال: فأبت، قال: فأعاد إليها الرسول: واللَّه لترجعن أو لأبعثن إليك نسوة من بكر بن وائل (معهن) (٢) شفار حداد يأخذنك بها، فلما رأت ذلك خرجت (٣).مولانا محمد اویس سرور
احنف بن قیس فرماتے ہیں کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہاہل بصرہ کے پاس آئے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف پیغام بھیجا کہ آپ مدینے اپنے گھر لوٹ جاؤ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انکار کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پھر اپنے پیغام رساں کو بھیجا کہ اللہ کی قسم تم لوٹ جاؤ ورنہ میں تمہاری طرف بکر بن وائل کی ایسی عورتوں کو بھیجوں گا جس کے پاس تیز دھار والی چھریاں ہیں وہ تجھ پر ان سے حملہ کریں گی۔ جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ دیکھا تو وہ چلی گئیں۔
حواشی
(١) سقط من: [أ، ب]، وفي [ع]: (أهل الجمل).
(٢) في [هـ]: (دمهن).