مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله
في مسير عائشة وعلي وطلحة والزبير ﵃ باب: سیدہ عائشہ، سیدنا علی، سیدنا طلحہ، اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم کے سفر کے بارے میں
٤٠٦٣٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (حدثنا) (١) شريك عن الأسود بن قيس قال: حدثني من رأى الزبير يقعص الخيل بالرمح قعصا، (فثوب) (٢) به علي: (يا عبد اللَّه) (٣) يا عبد اللَّه، قال: (فأقبل) (٤) حتى (التقت) (٥) أعناق دوابهما، قال: فقال (له) (٦) علي: أنشدك باللَّه، أتذكر يوم (أتانا) (٧) النبي ﷺ وأنا أناجيك فقال: "أتناجيه، فواللَّه ليقاتلنك (يوما) (٨) وهو لك ظالم"، قال: فضرب الزبير وجه دابته فانصرف (٩).اسود بن قیس کہتے ہیں کہ مجھے حضرت زبیر کو دیکھنے والے نے بتایا کہ حضرت زبیر نے گھوڑے کو زور سے نیزہ مارا پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو پکارا اے اللہ کے بندے اے اللہ کے بندے پس حضرت زبیر تشریف لائے یہاں تک کہ دونوں حضرات کے جانوروں کے کان ایک دوسرے کے قریب ہوگئے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا پس آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں آپ کو وہ دن یاد ہے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور میں آپ سے سرگوشی کر رہا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم اس سے سرگوشی کر رہے ہو۔ اللہ کی قسم یہ ایک دن تمہارے ساتھ قتال کرے گا اور یہ تم پر ظلم کرنے والا ہوگا پس حضرت زبیر نے اپنے گھوڑے کو ہانکا اور واپس چلے گئے۔