مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله
في مسير عائشة وعلي وطلحة والزبير ﵃ باب: سیدہ عائشہ، سیدنا علی، سیدنا طلحہ، اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم کے سفر کے بارے میں
حدیث نمبر: 40631
٤٠٦٣١ - حدثنا يعلى بن عبيد عن إسماعيل بن أبي خالد عن عبد السلام رجل من بني حية قال: خلا علي بالزبير يوم الجمل فقال: أنشدك باللَّه كيف سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول وأنت (لاوٍ) (١) يدي في سقيفة بني فلان: "لتقاتلنه ⦗٥١١⦘ وأنت ظالم له، ثم لينصرن عليك"، قال: (قد) (٢) سمعتُ، لا جرم لا أقاتلك (٣).مولانا محمد اویس سرور
عبدالسلام سے منقول ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جنگ جمل کے دن حضرت زبیر سے علیحدگی میں ملے اور فرمایا میں تمہیں اللہ کی قسم دیتاہوں بتاؤ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے نیں ن سنا جبکہ تم فلاں قبیلے کے چھپر کے نیچے میرے ہاتھ پر جھکے کھڑے تھے تم اس سے قتال کرو گے اور تم اس پر ظلم کرنے والے ہوگے پھر تم پر تمہارے خلاف مدد کی جائے گی حضرت زبیر نے فرمایا میں نے سنا ہے یقینا اور اب میں آپ سے قتال نہیں کروں گا۔
حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، ط، هـ]: (لاوي).
(٢) في [ع]: (وقد).
(٣) مجهول؛ لجهالة عبد السلام، أخرجه إسحاق كما في المطالب (٤٤٠٤)، والعقيلي ٣/ ٦٥، وابن عساكر ١٨/ ٤٠٩، وابن الجوزي في العلل (١٤١٧).