حدیث نمبر: 40630
٤٠٦٣٠ - حدثنا محمد بن الحسن قال: (حدثنا) (١) جرير بن حازم عن أبي سلمة عن أبي نضرة عن رجل من بني ضبيعة قال: لما قدم طلحة والزبير نزلا في بني طاحية، فركبت فرسي فأتيتهما فدخلت عليهما المسجد، فقلت: إنكما رجلان من أصحاب رسول اللَّه ﷺ: (أَعهد إليكما فيه رسول اللَّه ﷺ) (٢)، أم رأي (رأيتماه) (٣)؟ فأما طلحة فنكس رأسه فلم يتكلم، وأما الزبير فقال: حدثنا أن هاهنا دراهم كثيرة فجئنا نأخذ (منها) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور

ابو نضرہ بنو ضبیعہ کے ایک آدمی سے نقل کرتے ہیں کہ جب طلحہ اور زبیر بنو طاحیہ مں ت تشریف فرما ہوئے تو میں اپنے گھوڑے پر سوار ہوا اور ان کے پاس آیا اور ان کے پاس مسجد میں داخل ہوا۔ میں نے ان سے کہا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب ہیں ! کیا یہ کوئی رائے ہے جسے آپ دیکھ رہے ہیں پس حضرت طلحہ نے تو سر جھکا لیا اور کوئی بات نہیں کی اور زبیر نے کلام کیا اور رفرمایا کہ ہمیں اطلاع دی گئی ہے کہ یہاں کافی سارے دراہم ہیں ہم انہیں لینے کے لیے آئے ہیں۔

حواشی
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في النسخ بياض بمقدار ثلاث كلمات، وتم ملؤه من مصادر التخريج.
(٣) في [أ، ب، هـ]: (رأيتما).
(٤) في [هـ]: (منهم).
(٥) مجهول؛ لإبهام الرجل الضبعي، أخرجه ابن جرير في التاريخ ٣/ ٢١.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله / حدیث: 40630
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40630، ترقيم محمد عوامة 38981)