حدیث نمبر: 40618
٤٠٦١٨ - حدثنا أبو أسامة قال: (حدثنا) (١) هشام بن عروة عن أبيه عن عبد اللَّه ابن الزبير قال: لما وقف الزبير يوم الجمل دعاني فقمت إلى جنبه، فقال: إنه لا يقتل (إلا) (٢) (ظالم) (٣) أو (مظلوم) (٤)، وإني لأراني (سأقتل) (٥) اليوم (٦)، ⦗٥٠٦⦘ وإن أكبر همي لديني، أفترى ديننا يبقي من مالنا شيئا؟ (فقال) (٧): يا بني (بع) (٨) مالنا واقض ديننا، وأوصيك (بالثلث) (٩) -وثلثيه لبنيه-، فإن فضل شيء من مالنا بعد قضاء الدين فثلثه لولدك، قال عبد اللَّه بن الزبير: فجعل يوصيني بدينه ويقول: يا بني إن عجزت عن شيء منه (فاستعن) (١٠) عليه مولاي، قال: فواللَّه ما دريت ما أراد حتى قلت: (يا أبت) (١١) من مولاك؟ قال: اللَّه، قال: (فواللَّه) (١٢) (ما وقعت) (١٣) في كربة من دينه إلا (قلت) (١٤): يا مولى الزبير اقض عنه دينه قال: فيقضيه. قال: وقتل الزبير فلم يدع دينارا ولا درهما إلا أرضين منها الغابة (وإحدى عشرة) (١٥) دارا بالمدينة، ودارين بالبصرة، ودارا بالكوفة، ودارا بمصر، قال: وإن ما كان (١٦) عليه: أن الرجل كان يأتيه بالمال فيستودعه (١٧) إياه، فيقول الزبير: لا، ولكنه سلف، (إني) (١٨) (أخشى) (١٩) عليه ضيعة، وما ولي ولاية قط ولا جباية ولا ⦗٥٠٧⦘ (خراجا) (٢٠) ولا شيئا إلا أن يكون في (غزو) (٢١) مع (النبي) (٢٢) ﷺ أو مع أبي بكر وعمر وعثمان (٢٣).
مولانا محمد اویس سرور

عبداللہ بن زبیر سے روایت ہے کہ جنگ جمل کے دن حضرت زبیر کھڑے تھے انہوں نے مجھے بلایا میں ان کے پہلو میں کھڑا ہوگیا۔ پھر فرمانے لگے کہ ظالم ہو کر یا مظلوم ہو کر قتل کردیا جاؤنگا۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ میں آج مظلوم قتل کردیا جاؤں گا مجھے سب سے زیادہ فکر اپنے قرض کی ہے۔ کیا تو میرے قرض سے کوئی ما ل زائد دیکھتا ہے ؟ پھر فرمایا اے میرے بیٹے میرے مال و جائیداد کو بیچ کر میرا دین ادا کردینا۔ میں تمہارے لیے ایک تہائی کی وصیت کرتا ہوں اور دو ثلث اپنے بیٹوں کے لیے ہے۔ قرضہ ادا کرنے کے بعد اگر کوئی مال بچے تو ایک تہائی تیرے بیٹے کے لیے ہے۔ عبداللہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ حضرت زبیر نے مجھے دین کے بارے میں وصیت کرتے ہوئے فرمایا کہ میرے بیٹے اگر تو کہیں عاجز آجائے تو میرے مولا سے مدد طلب کرلینا، عبداللہ ابن زبیر فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم میں نہ سمجھا کہ مولا سے کیا مراد ہے یہاں تک کہ میں نے عرض کیا آپ کے مولا کون ہیں تو انہوں نے فرمایا اللہ ! وہ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم جب بھی مجھے قرض ادا کرنے میں مشکل پیش آئی تو میں نے دعا کی اے زبیر کے مولا اسکا قرض ادا فرما دے پس اللہ تعالیٰ نے قرض ادا کرنے میں مدد کی کہتے ہیں کہ حضرت زبیر شہید ہوئے تو ان کے ورثے میں کوئی درہم و دینار نہیں تھا سوائے زمینوں کے۔ ان زمینوں میں سے کچھ باغات تھے، گیارہ گھر مدینہ میں تھے، دو گھر بصرہ میں، ایک گھر کوفہ میں اور ایک گھر مصر میں۔ یہ قرض ان پر ایسے ہوا تھا کہ جب کوئی شخص ان کے پاس امانت رکھنے کے لیے آیا تو حضرت زبیر فرماتے یہ امانت نہیں بلکہ آپ کا میرے پاس قرض ہے، کیونکہ میں ڈرتا ہوں اس کے ضائع ہونے سے۔ وہ کبھی کسی شہر کے والی نہیں بنے، نہ ٹیکس اور خراج کے والی بنے اور نہ کسی اور شئے کے والی بنے سوائے اس کے کہ وہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابو بکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان کے ساتھ غزوات میں رہے۔

حواشی
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) سقط من: [ع].
(٣) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (ظالًا).
(٤) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (مظلومًا).
(٥) في [ع]: (سأفقل).
(٦) في [هـ]: زيادة (مظلومًا).
(٧) [هـ]: (ثم قال).
(٨) في [أ]: (بغ)، وفي [هـ]: (مع).
(٩) في [ب]: (بثلث).
(١٠) في [س]: (استعن).
(١١) في [ع]: (أبة).
(١٢) في [ط، هـ]: (واللَّه).
(١٣) في [أ، ب]: (أوقعت).
(١٤) في [ع]: (فلت).
(١٥) في [ع]: (أحد عشر).
(١٦) في [هـ]: زيادة (دينه الذي كان).
(١٧) في [ع]: زيادة (عنده).
(١٨) سقط من: [ع].
(١٩) في [ع]: (أخشا).
(٢٠) في [ع]: (خراج).
(٢١) في [س]: (غزوة).
(٢٢) في [هـ]: (رسول اللَّه).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله / حدیث: 40618
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣١٢٩)، وابن سعد ٣/ ١٠٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40618، ترقيم محمد عوامة 38969)