مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله
في مسير عائشة وعلي وطلحة والزبير ﵃ باب: سیدہ عائشہ، سیدنا علی، سیدنا طلحہ، اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم کے سفر کے بارے میں
٤٠٦٠٨ - حدثنا عباد بن العوام عن أشعث بن سوار عن أبيه قال: أرسل إلي موسى بن طلحة في (حاجة) (١) فأتيته، قال: (فبينا) (٢) أنا عنده إذ دخل عليه ناس من أهل المسجد، فقالوا: يا أبا عيسى! حدثنا في الأسارى، [(ليلتنا) (٣) فسمعتهم يقولون: أما موسى بن طلحة فإنه مقتول بكرة، فلما صليت الغداة جاء رجل ⦗٥٠٢⦘ يسعى؛ الأسارى (الأسارى) (٤)، قال] (٥): (ثم) (٦) جاء آخر في أثره يقول: موسى بن طلحة موسى بن طلحة، قال: فانطلقت، فدخلت على أمير المؤمنين فسلمت فقال: أتبايع؟ تدخل فيما دخل فيه الناس؟ قلت: نعم، قال: هكذا، ومد يده (فبسطها) (٧)، قال: فبايعته ثم قال: ارجع إلى أهلك ومالك، قال: فلما (رآني) (٨) الناسُ قد خرجت، قال: (جعلوا) (٩) يدخلون فيبايعون.حضرت سوار سے منقول ہے کہ موسیٰ بن طلحہ نے مجھے کسی ضرورت کے لیے اپنے پا س بلایا میں حاضر خدمت ہوا۔ میں ان کے پاس بیٹھا تھا کہ اسی اثنا میں مسجد کے کچھ لوگ حضرت موسیٰ بن طلحہ کے پاس آئے اور کہا اے ابو عیسیٰ ہمیں ہماری رات کے اساری کے بارے میں بتائیے، حضرت سوار صبح کے وقت قتل کردئیے جائیں گے پس جب میں نے صبح کی نماز ادا کی تو ایک شخص دوڑتا ہوا آیا جو پکارتے ہوئے کہہ رہا تھا الا ساری الا ساری پھر ایک دوسرا شخص اس کے نقش قدم پر چلتا ہوا آیا وہ پکار رہا تھا موسیٰ بن طلحہ موسیٰ بن طلحہ حضرت سوار فرماتے ہیں کہ پس میں چلا اور امیر المومنین کے پاس آیا اور سلام کیا۔ امیر المومنین نے کہا کہ کیا تم نے بیعت کرلی ؟ جہاں لوگ داخل ہوئے تم داخل ہوگئے ہو ؟ میں نے کہا جی ہاں۔ سوار فرماتے ہیں کہ اس طرح (ہاتھ پھیلائے ہوئے) امیر المومنین نے اپنے ہاتھ پھیلائے۔ پھر کہا تم نے بیعت کرلی پھر کہا تم اپنے اہل و عیال کی طرف لوٹ جاؤ جب لوگوں نے مجھے نکلتے ہوئے دیکھا تو وہ داخل ہونا شروع ہوئے اور بیعت کرنے لگے۔