مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله
في مسير عائشة وعلي وطلحة والزبير ﵃ باب: سیدہ عائشہ، سیدنا علی، سیدنا طلحہ، اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم کے سفر کے بارے میں
٤٠٦٠٤ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا عبد اللَّه بن المبارك عن معمر قال: حدثني سيف بن فلان بن معاوية العنزي قال: حدثني خالي عن جدي قال: لما كان يوم الجمل واضطرب الناس، قام الناس إلى علي يدعون أشياء، فأكثروا الكلام، فلم يفهم عنهم، فقال: ألا رجلٌ يجمع لي كلامه في خمس كلمات أو ست، (فاحتفزت) (١) على إحدى رجلي، فقلت: إن أعجبه كلامي وإلا (جلست) (٢) من قريب، (قال) (٣): (فقلت) (٤): يا أمير المؤمنين إن الكلام ليس (بخمس ولا بست) (٥) ولكنهما كلمتان، هضم (٦) أو قصاص، قال: فنظر إليّ (فعقد) (٧) بيده ثلاثين، ثم قال: أرأيتم ما عددتم فهو تحت قدمي (هذه) (٨) (٩).سیف بن فلاں بن معاویہ عنزی اپنے ماموں اور وہ میرے نانا سے نقل کرتے ہیں کہ جب جنگ جمل کا دن آیا تو لوگ پریشان تھے۔ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف کھڑے ہوتے اور مختلف چیزوں کا دعوی کرتے۔ جب آوازیں زیادہ ہوگئیں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ لوگوں کی آوازوں کو سمجھ نہ پائے تو فرمایا کیا کوئی ایسا شخص نہیں جو اپنی بات پانچ یا چھ کلمات میں سمیٹ دے۔ پس میں جلدی سے ایک ٹانگ پر کھڑا ہوا اور کہا کہ اگر میں اپنی بات سمیٹ نہ سکا تو قریب میں بیٹھ جاؤں گا پس میں نے کہا اے امیرالمومنین ! میرا کلام پانچ یا چھ لفظوں کا نہیں بلکہ صرف دو الفاظ کا ہے حملہ یا قصاص۔ انہوں نے میری طرف دیکھا اور اپنے ہاتھ سے تیس تک گنا۔ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے میر ی طرف دیکھا اور جو تم نے گنا (شمار کیا) وہ میرے ان قدموں کے نیچے ہے۔