حدیث نمبر: 40603
٤٠٦٠٣ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا جعفر بن زباد عن (أميّ) (١) الصيرفي عن صفوان بن قبيصة عن طارق بن شهاب قال: لما قتل عثمان قلت: ما (يقيمني) (٢) بالعراق، وإنما الجماعة بالمدينة عند المهاجرين والأنصار، (قال) (٣): فخرجت فأخبرت أن الناس قد بايعوا عليًا، قال: فانتهيت إلى الربذة وإذا عليٌّ بها، فوضع له (رحل) (٤) فقعد عليه، فكان كقيام الرجل، فحمد اللَّه وأثنى عليه، ثم قال: إن طلحة والزبير بايعا طائعين غير مكرهين، ثم (أرادا) (٥) أن (يفسدا) (٦) الأمر (ويشقا) (٧) عصا المسلمين، وحرض على قتالهم قال: فقام الحسن بن علي (فقال) (٨): ألم أقل لك إن العرب ستكون لهم جولة عند قتل هذا الرجل؛ فلو أقمت بدارك التي أنت بها -يعني: المدينة- فإني أخاف أن تقتل بحال مضيعة (لا) (٩) ناصر لك، قال: فقال علي: اجلس (فإنما) (١٠) تخن (كما تخن) (١١) الجارية؛ وإن لك (خنينا كخنين) (١٢) الجارية، (آللَّه) (١٣) أجلس بالمدينة كالضبع تستمع ⦗٥٠٠⦘ (اللدم) (١٤) لقد ضربت هذا الأمر ظهره، وبطنه، أو رأسه (وعينيه) (١٥)، فما وجدت إلا السيف (أو) (١٦) الكفر (١٧).
مولانا محمد اویس سرور

طارق بن شباب سے روایت ہے کہتے ہیں کہ جب حضرت عثمان کو قتل کیا گیا میں نے دل میں سوچا کہ مجھے کس شئے نے عراق میں ٹھہرایا ہوا ہے حالانکہ جماعت تو مدینہ میں ہے مہاجرین اور انصار کے پاس کہتے ہیں میں نکلا مجھے خبر ملی کہ لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کرلی ہے کہتے ہیں کہ میں ربذہ مقام پر پہنچا تو وہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ موجود تھے۔ ان کے لیے ایک شخص نے بیٹھنے کے لیے نشست رکھی۔ پس حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہونے کی حالت میں تھے۔ انہوں نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا کہ طلحہ اور زبیر نے بیعت خوشی خوشی کی تھی نہ کہ حالت اکراہ میں۔ اب چاہتے ہیں کہ وہ معاملے کو بگاڑ دیں اور مسلمانوں کی لاٹھی (جمعیت) کو توڑ ڈالیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے قتال کرنے کے لیے لوگوں کو ابھارا۔ پھر حسن بن علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ میں نے آپ کو نہیں کہا تھا کہ عرب ان کے ساتھ جمع ہوجائیں گے اگر اس شخص (حضرت عثمان ) کو شہید کیا گیا۔ اگر آپ اپنے گھر میں رہتے یعنی مدینہ میں تو مجھے ڈر تھا کہ آپ کو بھی اسی لاپرواہی سے قتل کردیاجاتا اور آپ کا کوئی مدد گار نہ ہوتا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم بیٹھ جاؤ تم ایسے گنگناتے ہو جیسے دوشیزہ گنگناتی ہے یا یہ فرمایا کہ تمہارے لیے ایسا گنگنا ہونا ہے جیسے دوشیزہ کے لیے گنگنا ہونا۔ اللہ کی قسم میں مدینہ میں اس بھیڑیے کی طرح بیٹھا تھا جو زمین پر پتھر گر نے کی آواز سن رہا ہو۔ پس میں نے اس معاملے کا بہت گہرائی سے مشاہدہ کیا میں نے سوائے تلوار یا کفر کے کچھ نہیں پایا۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (أم).
(٢) في [أ، ب]: (يقضي).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) في [س، ط، هـ]: (رجل).
(٥) في [س]: (أراد).
(٦) في [س]: (يفسد).
(٧) في [ط، ع، هـ]: (وسيتا)، وفي [جـ، س]: (وشيعًا).
(٨) في [جـ]: (جعال).
(٩) في [أ، ب، جـ]: (ولا).
(١٠) في [جـ]: (فإنا).
(١١) سقط من: [هـ]، وفي [س]: (تحن كما تحن).
(١٢) في [هـ]: (حنينًا كحنين).
(١٣) سقط من: [هـ].
(١٤) في [أ، ب، جـ، ع]: (الكدم)، وفي [س]: (اللام)، وفي [هـ]: (الدم)، والمراد صوت الحجر تسمه الضبع فتخرج من قفاها فيُمسك بها.
(١٥) في [س]: (عينه).
(١٦) في [جـ]: (على).
(١٧) مجهول؛ لجهالة صفوان بن قبيضة، وأخرجه البخاري في التاريخ الكبير ٢/ ٦٦ و ٤/ ٢٠٩، وابن شبه (٢٢٣٧).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله / حدیث: 40603
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40603، ترقيم محمد عوامة 38954)