حدیث نمبر: 40602
٤٠٦٠٢ - حدثنا ابن إدريس عن حصين عن (عمر) (١) بن جاوان عن الأحنف ⦗٤٩٤⦘ ابن قيس قال: قدمنا المدينة ونحن نريد الحج، فإنا لبمنازلنا نضع (رحالنا) (٢) (إذ) (٣) أتانا آت، فقال: إن الناس قد فزعوا واجتمعوا في المسجد، فانطلقت فإذا الناس مجتمعون في المسجد، فإذا علي والزبير وطلحة وسعد بن أبي وقاص. قال: فإنا لكذلك إذ جاءنا عثمان، فقيل: هذا عثمان، فدخل عليه مُلَيَّةٌ له صفراء، قد قنع بها رأسه، (قال: هاهنا عليٌّ؟ قالوا: نعم) (٤)، قال: هاهنا الزبير؟ قالوا: نعم، قال: هاهنا طلحة؟ قالوا: نعم، قال: هاهنا سعد؟ قالوا: نعم، قال: أنشدكم باللَّه الذي لا إله إلا هو: هل تعلمون أن رسول اللَّه ﷺ قال: "من يبتاع مربد بني فلان غفر اللَّه له"، فابتعته بعشربن ألفا أو بخمسة وعشرين ألفا، فأتيت رسول اللَّه ﷺ فقلت له: ابتعته، قال: "اجعله في مسجدنا ولك أجره" (قال) (٥): فقالوا: اللهم نعم. قال: فقال: أنشدكم باللَّه الذي لا إله إلا هو: أتعلمون أن رسول اللَّه صلى اللَّه عليه (٦) وسلم (٧) (قال) (٨): "من ابتاع (بئر) (٩) رومة غفر اللَّه له"، [فابتعتها بكذا وكذا، ثم أتيته فقلت: قد ابتعتها، قال: "اجعلها سقاية للمسلمين وأجرها لك"، قالوا: اللهم نعم. ⦗٤٩٥⦘ قال: أنشدكم باللَّه الذي لا إله إلا هو: أتعلمون أن رسول اللَّه صلى اللَّه عليه (١٠) وسلم نظر في وجوه القوم فقال: "من جهز هؤلاء غفر اللَّه له"] (١١)، يعني جيش العسرة، فجهزتهم حتى لم يفقدوا (خطامًا) (١٢) ولا عقالا، قال: قالوا: اللهم نعم، (قال: اللهم) (١٣) اشهد ثلاثًا. قال الأحنف: فانطلقت فأتيت طلحة والزبير فقلت: ما تأمراني به ومن ترضيانه لي، فإني لا أرى هذا إلا مقتولا، قالا: نأمرك بعلي، قال: قلت: تأمراني به وترضيانه لي؟ (قالا) (١٤): نعم. قال: ثم انطلقت حاجا حتى (قدمت) (١٥) مكة فبينا نحن بها (إذ) (١٦) أتانا قتل عثمان وبها عائشة أم المؤمنين، فلقيتها فقلت لها: من (تأمريني) (١٧) به أن أبايع؟ فقالت: عليا، فقلت: أتأمرينني به (وترضينه) (١٨) لي؟ قالت، نعم، فمررت (على) (١٩) علي بالمدينة فبايعته، ثم رجعت إلى (٢٠) البصرة ولا أرى إلا أن الأمر قد استقام. ⦗٤٩٦⦘ (قال) (٢١): فبينا أنا كذلك إذ أتاني آت، فقال: هذه عائشة أم المؤمنين وطلحة والزبير قد نزلوا جانب الخُرَيبة، قال: قلت: ما جاء بهم؟ قال: أرسلوا إليك ليستنصروك على دم عثمان، قتل مظلوما، قال: فأتاني أفظع أمر أتاني قط، فقلت: إن خذلاني هؤلاء ومعهم أم المؤمنين وحواري رسول اللَّه صلى اللَّه عليه (٢٢) وسلم لشديد، وإن (قتالي) (٢٣) (ابن) (٢٤) عم رسول اللَّه صلى اللَّه عليه (٢٥) وسلم بعد أن أمروني ببيعته لشديد. فلما أتيتهم قالوا: جئنا نستنصر على دم عثمان، قتل مظلومًا، قال: (فقلت) (٢٦): يا أم المؤمنين! أنشدك باللَّه هل قلت لك: من تأمريني به؟ فقلت: (عليًا) (٢٧)، فقلت: تأمريني به (وترضينه) (٢٨) لي (٢٩)، [قالت: نعم، (ولكنه) (٣٠) بدل، قلت: يا زبير يا حواري رسول اللَّه ﷺ، يا طلحة نشدتكما باللَّه أقلت لكما: من تأمراني به] (٣١)، فقلتما: عليًا، فقلت: تأمراني به وترضيانه لي؟ فقلتما: نعم، قالا: بلى، ولكنه بدل. ⦗٤٩٧⦘ قال: (فقلت) (٣٢): لا واللَّه، لا أقاتلكم ومعكم أم المؤمنين وحواري رسول اللَّه ﷺ، (ولا أقاتل ابن عم رسول اللَّه ﷺ) (٣٣) أمرتموني (ببيعته) (٣٤) اختاروا مني بين إحدى ثلاث خصال: إما أن تفتحوا (٣٥) باب الجسر فألحق بأرض الأعاجم، حتى يقضي اللَّه من أمره ما قضى، أو ألحق بمكة فأكون بها حتى يقضي اللَّه من أمره ما قضى، أو أعتزل فأكون قريبا، قالوا: نأتمر، ثم نرسل إليك. (فائتمروا) (٣٦) فقالوا: نفتح له باب الجسر فيلحق (به) (٣٧) المنافق والخاذل؟ ويلحق بمكة (فيتعجسكم) (٣٨) في قريش ويخبرهم بأخباركم؟ ليس ذلك بأمر، (اجعلوه) (٣٩) هاهنا قريبا حيث (تطئون) (٤٠) على صماخه، وتنظرون إليه. فاعتزل بالجلحاء من البصرة على فرسخين، واعتزل معه زهاء ستة آلاف، ثم التقى القوم، فكان أول قتيل طلحة و (بعث) (٤١) ابن سور معه المصحف، يذكر هؤلاء وهؤلاء حتى قتل منهم من قتل. وبلغ الزبيرُ سفوانَ من البصرة كمكان (القادسية) (٤٢) منكم؛ فلقيه (النعر) (٤٣) ⦗٤٩٨⦘ رجل من بني مجاشع، قال: أين تذهب يا حواري رسول اللَّه (٤٤)؟ إليّ فأنت في ذمتي، لا يوصل إليك، فأقبل معه. قال: (فأتى) (٤٥) إنسان الأحنف قال: هذا الزبير قد لقي (بسفوان) (٤٦) قال: فما (يأمن؟) (٤٧) جمع (بين) (٤٨) المسلمين حتى ضرب بعضُهم حواجبَ بعض بالسيوف، ثم لحق (ببيته) (٤٩) وأهله، فسمعه (عمير بن جرموز) (٥٠) وغواة من غواة بني تميم وفضالة بن حابس (ونفيع) (٥١)، فركبوا في طلبه، فلقوا معه النعر، فأتاه (عمير) (٥٢) بن (جرموز) (٥٣) وهو على فرس له (ضعيفة) (٥٤) فطعنه طعنة خفيفة، وحمل عليه الزبير وهو على فرس له يقال له: (ذو الخمار) (٥٥) حتى إذا ظن أنه قاتله نادى صاحبيه: يا نفيع، يا فضالة، فحملوا عليه حتى قتلوه (٥٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت احنف بن قیس سے منقول ہے کہ ہم مدینے پہنچے ہمارا حج کرنے کا ارادہ تھا۔ اپنی منزل پر پہنچ کر ہم نے اپنے کجاوے رکھے کہ اچانک آنے والے نے کہا کہ لوگ مسجد میں پریشان حال جمع ہیں۔ پس میں مسجد پہنچا اور لوگوں کو وہاں جمع دیکھا۔ حضرت علی، زبیر، طلحہ اور سعد بن وقاص بھی وہاں موجود تھے۔ میں بھی اس طرح کھڑا ہوگیا کہ حضرت عثمان بھی تشریف لائے۔ کسی نے کہا یہ عثمان ہیں ان کے سر پر زرد رنگ کا کپڑا تھا جس سے انہوں نے سر ڈھانپا ہوا تھا فرمانے لگے یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں ؟ لوگوں نے کہا جی ہاں۔ پھر فرمایا یہ حضرت زبیر ہیں ؟ لوگوں نے کہا جی ہاں۔ پھر فرمایا یہ طلحہ ہیں لوگوں نے جواب دیا جی ہاں۔ پھر فرمایا یہ سعد ہیں لوگوں نے کہا جی ہاں۔ پھر فرمانے لگے میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ کیا تم کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا جو فلاں قبےلل کے باڑے کو خرید لے گا اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمائیں گے۔ پس میں نے اسے بیس یا پچیس ہزار درہم کے عوض خریدا اور حاضر خدمت ہو کر میں نے عرض کیا تھا کہ میں نے خرید لیا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسکو مسجد بنادو اور تمہارے لیے اجر ہے ؟ تو لوگوں نے کہا بالکل اسی طرح ہے۔ پھر حضرت عثمان نے فرمایا میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا تم جانتے ہو ؟ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا جو بئر رومہ (کنواں) خرید لے گا اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمائیں گے۔ پھر میں نے اسے خریدا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کیا۔ میں نے کنواں خرید لیا ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اسے مسلمانوں کے لیے وقف کردو اس کا اجر اللہ تم کو دے گا۔ لوگوں نے کہا جی بالکل ایسے ہے۔ پھر حضرت عثمان نے لوگوں سے فرمایا میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا آپ جانتے ہو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کچھ کے چہروں کی طرف دیکھتے ہوئے کہ جو ان لوگوں کو سامان جنگ مہیاکرے گا (غزوہ تبوک میں) اللہ تعالیٰ اس کے مغفرت فرمائیں گے۔ پس میں نے ان لوگوں کو سامان جنگ دیا حتیٰ کہ لگام اور اونٹ باندھنے کی رسی تک میں نے مہیا کی ؟ لوگوں نے کہا جی بالکل ایسے ہے۔ حضرت عثمان نے تین دفعہ فرمایا اے اللہ تو گواہ رہنا۔ احنف کہتے ہیں کہ میں چلا اور حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے عرض کیا کہ اب آپ مجھے کس چیز کا حکم دیتے ہیں ؟ اور میرے لیے (بیعت کے لیے) کس کو پسند کرتے ہو ؟ کیونکہ ان کو (حضرت عثمان ) شہید ہوتے دیکھ رہاہوں۔ دونوں نے جواب دیا ہم آپ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بیعت کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ میں نے پھر عرض کیا آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں حکم دے رہے ہیں اور آپ میرے لیے ان پر راضی ہیں دونوں نے جواب دیا ہاں۔ پھر میں حج کے لیے مکہ روانہ ہوا کہ اس دوران حضرت عثمان کی شہادت کی خبر پہنچی۔ مکہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی قیام فرماتھیں۔ میں ان سے ملا اور ان سے عرض کیا کہ اب میں کن سے بیعت کروں انہوں نے بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نام لیا۔ میں نے عرض کیا آپ مجھے علی رضی اللہ عنہ سے بیعت کا حکم دے رہی ہیں اور آپ اس پر راضی ہیں انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔ میں نے واپسی پر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بیعت کی مدینہ میں۔ پھر میں بصرہ لوٹ آیا۔ پھر میں نے معاملے کو مضبوط ہوتے ہوئے ہی دیکھا۔ اسی اثناء میں ایک آنے والا میرے پاس آیا اور کہنے لگا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حضرت طلحہ اور حضرت زبیر خریبہ مقام پر قیام فرماں ہیں۔ میں نے پوچھا وہ کیوں آئے ہیں ؟ تو اس نے جواب دیا وہ آپ سے مدد چاہتے ہیں حضرت عثمان کے خون کا بدلہ لینے میں جو مظلوم شہید ہوئے ہیں۔ احنف نے فرمایا مجھ پر اس سے زیادہ پریشان کرنے والا معاملہ کبھی نہیں آیا۔ میرا ان سے (طلحہ زبیر ) جدا ہونا بڑا دشوار کن مرحلہ ہے جبکہ ان کے ساتھ ام المومنین اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ بھی ہیں۔ اور دوسری طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا زاد سے قتال کرنا بھی چھوٹی بات نہیں جب کہ ان کی بیعت کا حکم وہ (طلحہ ، زبیر ، ام المومنین ) خود دے چکے ہیں۔ جب میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ کہنے لگے کہ ہم حضرت عثمان کے خون کا بدلہ کے سلسلہ میں مدد لینے کے لیے آئے ہیں جو مظلوم قتل ہوئے ہیں۔ احنف کہتے ہیں کہ میں نے کہا اے ام المومنین ! میں آپ کو الٰہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا میں نے آپ سے کہا تھا کہ آپ مجھے کس کی بیعت کا حکم دیتی ہیں ؟ آپ نے فرمایا تھا علی رضی اللہ عنہ کا میں نے پھر کہا تھا کہ آپ مجھے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں حکم دیتی ہیں اور آپ میرے لیے ان پر خوش ہیں تو آپنے فرمایا تھا ہاں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا بالکل ایسے ہی ہے لیکن اب علی رضی اللہ عنہ بدل چکے ہیں۔ پھر یہی بات میں نے حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کو مخاطب کر کے کہی انہوں

حواشی
(١) في [س]: (عمرو).
(٢) في [ع]: (رجالنا).
(٣) في [س]: (إذا).
(٤) سقط من: [س].
(٥) سقط من: [هـ].
(٦) في [أ]: زيادة (وآله).
(٧) في [س]: زيادة (نظر في وجوه القوم فقال: "من جهز هولاء غفر اللَّه له"، يعني جيش العسرة، فجهزته حتى لم يفقدوا خطامًا ولا عقالًا، قال: قالوا: اللهم نعم، اشهد ثلاثًا، قال الأحنف: فانطلقت فأتيت طلحة والزبير).
(٨) سقط من: [أ، ب].
(٩) سقط من: [أ، ب، س، ع].
(١٠) في [أ]: زيادة (واله).
(١١) سقط ما بين المعكوفين من: [ب].
(١٢) في [س]: (عظامًا).
(١٣) سقط من: [س].
(١٤) في [ع]: (قالوا).
(١٥) في [ع]: (أتيت).
(١٦) في [س]: (إذا).
(١٧) في [ع]: (تأمروني).
(١٨) في [أ، ب]: (ترضيه).
(١٩) في [أ، ب]: (علا).
(٢٠) في [ع]: زيادة (أهل).
(٢١) في [جـ]: (قالت).
(٢٢) في [أ]: زيادة (وم له).
(٢٣) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (قتال).
(٢٤) سقط من: [س].
(٢٥) في [أ]: زيادة (واله).
(٢٦) في [س، ع]: (قلت).
(٢٧) في [أ، جـ، س]: (علي).
(٢٨) في [أ، ب]: (ترضيه).
(٢٩) في [هـ]: زيادة (فقالت: نعم).
(٣٠) في [س]: (لكن).
(٣١) سقط ما بين المعكوفين من: [ع].
(٣٢) في [س]: (فقلته).
(٣٣) سقط من: [هـ].
(٣٤) في [هـ]: (بيعته).
(٣٥) في [هـ]: زيادة (لي).
(٣٦) في [أ، ب، س]: (فايتمروا).
(٣٧) سقط من: [أ، ب، جـ، س، ع].
(٣٨) في [أ، ب]: (فيتعجبكم)، وفي [جـ]: (فتعجبكم)، وفي [ع]: (فيتعجمكم)، وسقط من: [س].
(٣٩) في [س]: (اجعلوا).
(٤٠) في [أ، ب]: (أيطؤن)، وفي [س]: (يطئون).
(٤١) في [هـ]: (كعب).
(٤٢) في [س، ع]: (الفارسية).
(٤٣) في [س]: (البعير).
(٤٤) في [أ، ب، جـ، س، ع]: زيادة ﷺ، وفي [هـ]: (وآله وسلم)، وفي [جـ]: كلمة غير واضحة.
(٤٥) في [ب]: (فإني).
(٤٦) في [أ، ب، س، ع]: (سفوان).
(٤٧) في [س]: (تأمر).
(٤٨) في [س]: (من).
(٤٩) في [ع]: (ببنيه)، وفي [ط]: (بلية).
(٥٠) في [أ، ب، جـ، ع]: (عميرة بن جرموز)، وفي [س]: (عمرة بن جرموز)، وفي [هـ]: (جوموز).
(٥١) في [ع]: (نقيع).
(٥٢) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (عميرة).
(٥٣) في [ب]: (جوموز).
(٥٤) في [س]: (ضعيقة).
(٥٥) في [أ، ب، س، ع]: (ذو الحفار).
(٥٦) مجهول؛ لجهالة عمر بن جاوان، وأخرجه أحمد (٥١١)، والنسائي (٦٤٣٣)، وابن خزيمة (٢٤٨٧)، وابن حبان (٦٩٢٠)، وابن سعد ٧/ ٩٢، والبخاري في الأوسط (٢٩٠)، والطيالسي (٨٢)، والبزار (٣٩٠)، والدارقطني ٤/ ١٩٥، وإسحاق كما في المطالب العالية (٤٤٠١)، وابن أبي عاصم في السنة (١٣٠٣)، والضياء في المختارة (٣٥٠)، والبيهقي ٦٧/ ١٦، وابن عساكر ١٨/ ٤١٥، وابن شبه (٤٤٤)، والمزي ١٣/ ٤٢٠، والخطابي في الغريب ٣/ ٣٩، وابن جرير ٤/ ٤٩٧.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله / حدیث: 40602
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40602، ترقيم محمد عوامة 38953)