مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله
في مسير عائشة وعلي وطلحة والزبير ﵃ باب: سیدہ عائشہ، سیدنا علی، سیدنا طلحہ، اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم کے سفر کے بارے میں
٤٠٥٩٩ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن حصين بن عبد الرحمن عن يوسف بن يعقوب عن الصلت بن عبد اللَّه بن الحارث عن أبيه قال: قدمت على علي حين فرغ من الجمل، فانطلق إلى بيته وهو آخذ بيدي، فإذا امرأته وابنتاه (يبكين) (١)، وقد أجلس وليدة بالباب (تؤذنهن) (٢) به إذا (جاء، فألهى) (٣) الوليدة ما ترى النسوة (يفعلن) (٤) حتى دخل عليهن، وتخلفت فقمت بالباب، فأسكتن فقال: ⦗٤٩٣⦘ مالكن؟ فانتهر (هن) (٥) مرة أو مرتين، فقالت امرأة منهن: قلنا: ما سمعت ذكرنا عثمان وقرابته والزبير (وطلحة) (٦) وقرابته، فقال: إني لأرجو (أن نكون) (٧) كالذين قال اللَّه: ﴿وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ﴾ [الحجر: ٤٧] ومن هم إن لم نكن، ومن هم (٨) -يردد (ذلك) (٩) حتى وددت أنه سكت (١٠).عبداللہ بن حارث سے منقول ہے کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا جب آپ جنگ جمل سے فارغ ہوچکے تھے۔ وہ میرا ہاتھ تھام کر اپنے گھر لے گئے۔ وہاں ان کی اہلیہ اور دو بیٹیاں رو رہی تھیں باندی کو دروازے پر بٹھایا ہوا تھا تا کہ وہ انہیں کسی کے آنے کی خبر دیں۔ عورتوں کو روتے ہوئے دیکھ کر وہ غافل ہوگئی۔ حتی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہاندر داخل ہوئے اور میں پیچھے ٹھہر گیا اور دروازے پر کھڑا ہوگیا، چناچہ وہ خاموش ہوگئیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا تم کیوں رو رہی ہو ؟ پھر ایک یا دو دفعہ ڈانٹا پھر ان میں سے ایک عورت نے کہا کہ ہم وہی کہہ رہے ہیں جو آپ نے حضرت عثمان اور ان کی رشتہ داری ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) حضرت زبیر اور ان کی رشتہ داری کے بارے میں ہم سے سنا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں امید کرتا ہوں کہ ہم ان لوگوں کی طرح ہوں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ” ہم ان کے دلوں سے خفگی دور کردیں گے وہ بھائی بھائی ہوں گے آمنے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کون ہوں گے اگر ہم نہ ہوں گے ؟ وہ کون ہوں گے ؟ اس بات کو انہوں نے کئی بار دہرایایہاں تک کہ میرے د ل میں خواہش پیدا ہوگئی کہ یہ خاموش ہوجائیں۔