مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله
في مسير عائشة وعلي وطلحة والزبير ﵃ باب: سیدہ عائشہ، سیدنا علی، سیدنا طلحہ، اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم کے سفر کے بارے میں
٤٠٥٩٧ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا أبو مالك الأشجعي عن سالم بن أبي الجعد عن محمد بن الحنفية قال: كنا في الشعب فكنا ننتقص عثمان فلما كان ذات يوم أفرطنا، فالتفتُ إلى عبد اللَّه ابن عباس فقلت له: يا أبا عباس! تذكر عشية الجمل؟ أنا عن يمين علي و (أنت) (١) عن شماله، إذ سمعنا الصيحة من قبل المدينة؟ قال: فقال ابن عباس: نعم، التي (بعث) (٢) بها فلان بن فلان، فأخبره أنه وجد أم المؤمنين عائشة (واقفة) (٣) في المربد تلعن قتلة عثمان، فقال علي: لعن اللَّه قتلة عثمان في السهل والجبل والبر والبحر، أنا عن يمين علي وهذا عن شماله، (قال) (٤): فسمعته من فيه إلى فيَّ وابن عباس: فواللَّه ما عبت عثمان إلى يومي هذا (٥).محمد بن حنفیہ سے روایت ہے کہ ہم ایک گروہ میں بیٹھے حضرت عثمان کی کمی بیان کر رہے تھے ، جب ہم نے حد سے تجاوز کیا تو میں حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوا اور ان سے کہا اے ابن عباس رضی اللہ عنہما کیا آپکو جنگ جمل کی شام یاد ہے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دائیں جانب تھا اور آپ بائیں جانب جب ہم نے مدینہ کی طرف سے ایک چیخ سنی تھی ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا جی ہاں جب فلاں کو اس کی خبر لانے کے لیے بھیجا تھا۔ پس اس نے خبر دی تھی کہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اونٹوں کے باڑے میں کھڑے ہو کر عثمان کے قاتلوں پر لعنت کر رہی تھیں۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا لعنت ہو عثمان کے قاتلوں پر وہ چاہے نرم زمین میں ہوں، یا پہاڑوں میں ، خشکی میں ہوں، یا تری میں، میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دائیں جانب تھا اور یہ بائیں جانب تھے پس میں نے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آمنے سامنے یہ سنا۔ اللہ کی قسم میں نے حضرت عثمان کا آج تک کوئی عبی بیان نہیں کیا۔