مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله
في مسير عائشة وعلي وطلحة والزبير ﵃ باب: سیدہ عائشہ، سیدنا علی، سیدنا طلحہ، اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم کے سفر کے بارے میں
٤٠٥٨٠ - حدثنا محمد بن بشر قال: سمعت (حميد) (١) بن عبد اللَّه بن الأصم يذكر عن أم راشد جدته قالت: كنت عند أم هانئ فأتاها علي، فدعت له بطعام فقال: ما لي لا أرى عندكم بركة -يعني الشاة، (قالت) (٢): فقالت: سبحان اللَّه، بلى واللَّه إن عندنا (لبركة) (٣)، قال: إنما أعني الشاة، قالت: ونزلت فلقيت رجلين في الدرجة، فسمعت أحدهما يقول لصاحبه: بايعته أيدينا ولم تبايعه قلولنا، [(قالت) (٤): فقلت: من (هذان) (٥) الرجلان؟ فقالوا: طلحة والزبير، قالت: فإني قد سمعت أحدهما يقول لصاحبه: بايعته أيدينا ولم تبايعه قلوبنا] (٦)، فقال علي: ﴿فَمَنْ نَكَثَ فَإِنَّمَا يَنْكُثُ عَلَى نَفْسِهِ وَمَنْ أَوْفَى بِمَا عَاهَدَ عَلَيْهُ اللَّهَ فَسَيُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا﴾ [الفتح: ١٠] (٧).ام راشد سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میں ام ہانی کے پاس تھی حضرت علی رضی اللہ عنہان کے پاس تشریف لائے پس ام ہانی نے ان کی کھانے پر دعوت کی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا بات ہے مجھے تمہارے ہاں برکت (بکری) نظر نہیں آرہی۔ ام ہانی نے کہا سبحان اللہ کیوں نہیں ! اللہ کی قسم ہمارے ہاں برکت ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا میری مراد بکری ہے۔ میں اتری تو سیڑھی میں دو آدمیوں سے ملاقات ہوئی میں نے ان دونوں میں سے ایک کوسنا کہ وہ دوسرے کو کہہ رہا تھا ہمارے ہاتھوں نے بیعت کی ہے ہمارے دلوں نے نہیں۔ ام راشد نے کہا یہ کون ہیں۔ پس لوگوں نے جواب دیا طلحہ اور زبیر میں نے سنا ان میں سے ایک دوسرے کو کہہ رہا تھا ہمارے ہاتھوں نے بیعت کی ہے ہمارے قلوب نے نہیں۔ پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی { فَمَنْ نَکَثَ فَإِنَّمَا یَنْکُثُ عَلَی نَفْسِہِ وَمَنْ أَوْفَی بِمَا عَاہَدَ عَلَیْہُ اللَّہَ فَسَیُؤْتِیہِ أَجْرًا عَظِیمًا }۔ (جو عہد شکنی کرے گا اس کا بوجھ اسی پر ہوگا جو اللہ سے کیا عہد پورا کرے گا اللہ اس کو اجر عظیم دے گا) ۔