حدیث نمبر: 40578
٤٠٥٧٨ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا معتمر بن سليمان عن أبيه قال: حدثنا أبو نضرة أن ربيعة كلمت طلحة في مسجد بني (سلمة) (١) فقالوا: كنا في نحر العدو حتى جاءتنا بيعتك هذا الرجل، ثم أنت الآن تقاتله أو كما قالوا، قال: فقال: إني أدخلت (الحش) (٢) ووضع على عنقي اللج، (وقيل) (٣): بايع وإلا (قتلناك) (٤)، قال: فبايعت وعرفت أنها بيعة ضلالة (٥).
مولانا محمد اویس سرور

ابو نضرہ سے روایت ہے کہ قبیلہ ربیعہ والے بنو مسلمہ کی مسجد میں حضرت طلحہ سے ہم کلام ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم تو دشمن کے گلے پر قابض تھے کہ ہم کو یہ اطلاع پہنچی کے آپ نے اس شخص (حضرت علی رضی اللہ عنہ ) کی بیعت کرلی ہے پھر اب آپ اسی سے قتال کر رہے ہیں اور کچھ اس طرح کی باتیں کیں۔ حضرت طلحہ نے فرمایا کہ مجھے کھجور کے باغ میں داخل کیا گیا اور تلوار میری گردن پر رکھ دی گئی پھر کہا گیا کہ تم بیعت کرو وگرنہ ہم تمہیں قتل کردیں گے میں نے بیعت کرلی اور جان لیا کہ یہ گمراہی کی بیعت ہے۔ تیمی کہتے ہیں کہ ولید بن عبد الملک نے فرمایا کہ اہل عراق کے منافقین سے ایک منافق جبلہ بن حکیم نے حضرت زبیر سے کہا کہ آپ تو بیعت کرچکے ہیں (پھر یہ مخالفت کیسی) حضرت زبیر نے فرمایا کہ تلوار میری گدی پر تھی پھر مجھ سے کہا گیا کہ بیعت کرو وگرنہ ہم تم کو قتل کردیں گے پس میں نے بیعت کرلی۔

حواشی
(١) في [هـ]: (مسلمة).
(٢) في [أ، ب، جـ]: (الحسن).
(٣) في [ع]: (فقيل).
(٤) في [أ، هـ]: (قاتلناك).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله / حدیث: 40578
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40578، ترقيم محمد عوامة 38930)