مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله
في مسير عائشة وعلي وطلحة والزبير ﵃ باب: سیدہ عائشہ، سیدنا علی، سیدنا طلحہ، اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم کے سفر کے بارے میں
٤٠٥٧٦ - حدثنا غندر عن شعبة عن (سعد) (١) بن إبراهيم قال: سمعت (أبي) (٢) قال: بلغ علي بن أبي طالب أن طلحة يقول: ((إنما) (٣) بايعت) (٤) واللج على (قفاي) (٥)، (قال: فأرسل ابن عباس فسألهم، قال: فقال أسامة بن زيد: أما) (٦) واللج على قفاه (فلا) (٧)، ولكن قد بايع وهو كاره، قال: فوثب الناس إليه حتى كادوا أن يقتلوه، قال: فخرج صهيب وأنا إلى جنبه فالتفت إليَّ فقال: قد ⦗٤٨٤⦘ ظننت أن أم عوف (حائنة) (٨) (٩).سعد بن ابراہیم اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خبر ملی کہ حضرت طلحہ کہتے ہیں کہ میں نے بیعت اس حالت میں کی کہ میری گدی پر تلوار تھی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کو بھیجا کہ وہ لوگوں سے اس خبر کی تصدیق کریں پس اسامہ بن زید نے فرمایا کہ تلوار کے بارے میں مں نہیں جانتا لیکن انہوں نے بیعت ناپسندیدگی سے کی ہے لوگ ان کی طرف ایسے جھپٹے قریب تھا کہ ان کو قتل کردیں۔ راوی کہتے ہیں حضرت صہیب نکلے اس حال میں کہ میں ان کے ایک جانب میں تھا۔ پس انہوں نے میر ی طرف دیکھا اور فرمایا میرا خیال ہے کہ ام عوف سخت برہم ہے۔