حدیث نمبر: 40576
٤٠٥٧٦ - حدثنا غندر عن شعبة عن (سعد) (١) بن إبراهيم قال: سمعت (أبي) (٢) قال: بلغ علي بن أبي طالب أن طلحة يقول: ((إنما) (٣) بايعت) (٤) واللج على (قفاي) (٥)، (قال: فأرسل ابن عباس فسألهم، قال: فقال أسامة بن زيد: أما) (٦) واللج على قفاه (فلا) (٧)، ولكن قد بايع وهو كاره، قال: فوثب الناس إليه حتى كادوا أن يقتلوه، قال: فخرج صهيب وأنا إلى جنبه فالتفت إليَّ فقال: قد ⦗٤٨٤⦘ ظننت أن أم عوف (حائنة) (٨) (٩).
مولانا محمد اویس سرور

سعد بن ابراہیم اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خبر ملی کہ حضرت طلحہ کہتے ہیں کہ میں نے بیعت اس حالت میں کی کہ میری گدی پر تلوار تھی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کو بھیجا کہ وہ لوگوں سے اس خبر کی تصدیق کریں پس اسامہ بن زید نے فرمایا کہ تلوار کے بارے میں مں نہیں جانتا لیکن انہوں نے بیعت ناپسندیدگی سے کی ہے لوگ ان کی طرف ایسے جھپٹے قریب تھا کہ ان کو قتل کردیں۔ راوی کہتے ہیں حضرت صہیب نکلے اس حال میں کہ میں ان کے ایک جانب میں تھا۔ پس انہوں نے میر ی طرف دیکھا اور فرمایا میرا خیال ہے کہ ام عوف سخت برہم ہے۔

حواشی
(١) في [س]: (سعيد).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [أ، ب، س، ع]: (لما).
(٤) سقط من: [جـ].
(٥) في [جـ]: (قفاه).
(٦) سقط من: [ع].
(٧) سقط من: [هـ].
(٨) أي: أن أم عون وهي الجرداة مهلكة، وهو مثل يضرب للأمر القليل يكون به العطب، وفي [ع]: (خانئة)، وفي [س]: (نا خاوتنة)، وفي [أ]: (حاء ننته)، وفي [ق]: (حانية)، وفي [هـ]: (حانقة).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله / حدیث: 40576
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه نعيم (٤٠٨)، والحربي في غريب الحديث ١/ ١٣١.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40576، ترقيم محمد عوامة 38928)