مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله
في مسير عائشة وعلي وطلحة والزبير ﵃ باب: سیدہ عائشہ، سیدنا علی، سیدنا طلحہ، اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم کے سفر کے بارے میں
٤٠٥٧٤ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا إسماعيل عن قيس قال: لما بلغت عائشة بعض مياه بني عامر ليلا نبحت الكلاب عليها، فقالت: أي ماء هذا؟ قالوا: ماء (الحوأب) (١)، فوقفت فقالت: ما أظنني إلا راجعة، فقال لها طلحة والزبير: مهلا رحمك اللَّه بل تقدمين فيراك المسلمون فيصلح اللَّه ذات بينهم، قالت: ما ⦗٤٨٣⦘ أظنني إلا راجعة، إني سمعت رسول اللَّه ﷺ قال (لنا) (٢) ذات يوم: "كيف بإحداكن تنبح عليها كلاب (الحواب) (٣) " (٤).قیس سے روایت ہے جب عائشہ رضی اللہ عنہا بنو عامر کے ایک چشمہ پر پہنچیں تو کتوں نے بھونکناشروع کردیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا یہ کونسا چشمہ ہے۔ لوگوں نے بتایا ” حواب “ چشمہ ہے۔ پس وہ ٹھہر گئیں اور فرمانے لگیں کہ مجھے واپس چلے جانا چاہیے۔ طلحہ اور زبیر نے ان سے عرض کی ٹھہریے اللہ آپ پر رحم کرے۔ آپ کو آگے جانا چاہیے مسلمان آپ سے امید لگائے ہوئے ہیں کہ آپ کے ذریعے اللہ تعالیٰ ان کی اصلاح فرمائیں گے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا مجھے واپس ہی جانا چاہیے۔ میں نے رسو ل کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سنا ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دن کے بارے میں بتایا (کا حال ہوگا جب تم میں سے ایک پر حواب چشمے کے کتے بھونکیں گے)