مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله
في مسير عائشة وعلي وطلحة والزبير ﵃ باب: سیدہ عائشہ، سیدنا علی، سیدنا طلحہ، اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم کے سفر کے بارے میں
٤٠٥٦٨ - حدثنا ابن إدريس عن هارون (١) بن (أبي) (٢) إبراهيم عن عبد اللَّه بن عبيد بن عمير أن الأشتر وابن الزبير التقيا فقال ابن الزبير: فما ضربته (٣) (ضربة) (٤) حتى ضربني خمسا أو ستا، قال: ثم قال: (و) (٥) ألقاني (برجلي) (٦) (ثم قال) (٧): (واللَّه) (٨) لولا قرابتك من رسول اللَّه ﷺ ما تركت منك عضوا مع صاحبه قال: وقالت عائشة: (واثكل) (٩) أسماء، قال: فلما كان بعد أعطت الذي بشرها به أنه حي عشرة آلاف (١٠).عبداللہ بن عبید بن عمیر روایت کرتے ہیں کہ اشتر اور ابن زبیرکا (جنگ جمل میں) آمنا سامنا ہوا۔ ابن زبیر فرماتے ہیں کہ میں نے اشتر پر ایک وار بھی نہ کیا یہاں تک کہ اسنے پانچ یا چھ وار مجھ پر کیے اور مجھے پاؤں میں گرا دیا پھر کہنے لگا اللہ کی قسم اگر تمہاری رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے رشتہ داری نہ ہوتی تو تمہارا ایک عضو بھی سلامت نہ چھوڑتا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ منظر دیکھ کر پکارا ہائے اسمائ ! جب اشتر دور ہوگیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس شخص کو دس ہزار درہم دیا جس نے آکر یہ خوشخبری سنائی تھی کہ عبداللہ بن زبیر زندہ ہیں۔