حدیث نمبر: 40567
٤٠٥٦٧ - حدثنا عباد بن العوام عن الصلت بن بهرام عن عبد الملك بن سلع عن عبد خير أن عليًا لم يسب يوم الجمل ولم (يخمس) (١)، قالوا: يا أمير المؤمنين ألا تخمس أموالهم (٢)؟ قال: فقال: هذه عائشة ⦗٤٨٠⦘ (تستأمرها) (٣)، (قال) (٤): قالوا: ما هو إلا هذا، (ما هو إلا هذا) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد خیر سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جنگ جمل میں (جیتنے کے بعد) نہ تو کوئی قیدی بنایا اور نہ ہی خمس لیا۔ لوگوں نے عرض کیا ! کیا آپ ان کے مالوں کو پانچ حصوں میں تقسیم نہیں کریں گے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں مشورہ کرلو تو لوگوں نے انکار کیا (پھر مال غنیمت دستبردار ہوگئے)

حواشی
(١) في [ب، س، ع]: (تخمس).
(٢) في [س]: زيادة (ولم يقتل جريحًا).
(٣) في [أ، ب]: (لم تأمرني)، وفي [ع]: (فستأمرها)، وفي [س]: (نستأمرها).
(٤) سقط من: [أ، ب].
(٥) سقط من: [س].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله / حدیث: 40567
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف عبد الملك بن سلع، قال ابن حبان: "يخطئ".
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40567، ترقيم محمد عوامة 38920)