مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله
في مسير عائشة وعلي وطلحة والزبير ﵃ باب: سیدہ عائشہ، سیدنا علی، سیدنا طلحہ، اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم کے سفر کے بارے میں
حدیث نمبر: 40561
٤٠٥٦١ - (حدثنا) (١) ابن إدريس عن حصين عن ميسرة (أبي) (٢) جميلة قال: إن أول يوم تكلمت الخوارج يوم الجمل قالوا: ما أَحلَّ لنا دماءهم وحرم علينا ذراريهم وأموالهم قال: فقال علي: إن (العيال) (٣) مني على الصدر والنحر، ولكم في خمسمائة خمسمائة، جعلتها لكم ما يغنيكم عن العيال (٤).مولانا محمد اویس سرور
میسرہ ابی جمیلہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ میں پہلی دفعہ خوراج سے یوم جمل کو ملا وہ کہہ رہے تھے ہمارے لیے اللہ نے حلال نہیں کیا ان کے خون کو اور ہم پر ان کے اولاد و اموال کو حرام کیا ہے کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرے اہل و عیال سینے اور گردن پر ہیں (یعنی جنگ میں پیش پیش ہیں) اور تمہارے لیے پانچ پانچ سو درہم مال غنیمت ہے جو تمہیں اہل و عیال سے بےنیاز کردے گا۔
حواشی
(١) سقط من: [ع].
(٢) في [س]: (ابن).
(٣) في [ب]: (العنال).