حدیث نمبر: 40545
٤٠٥٤٥ - حدثنا يحيى بن إسحاق قال: أخبرني يحيى بن أيوب عن أبي قبيل عن (تُبَيْع) (١) عن النعمان بن (بشير) (٢) أنه قال: ابعثوا إلى أملةٍ يذبون عن فساد الأرض، فقال له كعب الأحبار: (مه) (٣) لا تفعل، فإن ذلك في (كتاب) (٤) اللَّه المنزل: أن قوما يقال لهم الأملة يحملون بأيديهم سياطا كأنها أذناب البقر، لا يريحون ريح الجنة، فلا تكن أنت أول من يبعث فيهم (٥).مولانا محمد اویس سرور
نعمان بن بشیر سے روایت ہے کہ پولیس والوں کو بھیجو کہ وہ زمین کا فساد دور کریں تو کعب احبار نے فرمایا کہ ٹھہرو ایسا نہ کرو کیونکہ یہ کتاب اللہ میں ہے کہ ایک قوم ان کو املہ کہا جائے گا (پولیس وغیرہ) ان کے ہاتھوں میں گائے کی دم کی طرح کوڑے ہونگے وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھیں گے۔ پس تم ان کو سب سے پہلے بھیجنے والے نہ بنو نعمان کہتے ہیں انہوں نے ایسا ہی کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ سے پوچھا املہ کسے کہتے ہیں تو انہوں نے فرمایا تم عراق میں انہیں شرطی (پولیس والا) کہتے ہو۔
حواشی
(١) هو ابن امرأة كعب، وفي [أ، ب، جـ، هـ]: (يثيع).
(٢) في [ع]: (بشر).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) في [ع]: (كاب).